Surah Sad Ayat 79 (38:79)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ 79
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس نے کہا: اے میرے رب! (اگرایسا ہی ہے) تو مجھے لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولا اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قال رب: اس نے کہا: اے میرے رب!} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب شیطان مردود ہو گیا تو اس نے عرض کی ’’اے میرے رب!اگرایسا ہی ہے تو مجھے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام او ران کی اولاد کے فنا ہونے کے بعد جزا کے لئے اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دے۔اس سے ابلیس کی مراد یہ تھی کہ وہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے فراغت پائے اور ان سے اپنا بغض خوب نکالے اور موت سے بالکل بچ جائے کیونکہ اٹھنے کے بعد موت نہیں ۔ اللہ تعالی نے ارشادفرمایا: پس بیشک تو معین وقت کے دن تک مہلت والوں میں سے ہے۔یہاں معین وقت سے قیامت کے پہلے نفخہ تک کا وقت مراد ہے کہ جسے مخلوق کی فنا کے لئے معین فرمایا گیا ہے۔( روح البیان ص تحت الایۃ: ۷۹-۸۱ ۸ / ۶۵) نوٹ:ابلیس کے مہلت طلب کرنے کا بیان سورہ اعراف کی ایت نمبر14اور سورہ حجر کی ایت نمبر36میں بھی گزر چکا ہے۔