Surah Sad Ayat 86 (38:86)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
قُلْ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ 86
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: میں اِس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا اور میں جھوٹ گھڑنے والوں میں سے نہیں ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں میں نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قل: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ مشرکین سے فرما دیں کہ میں وحی کی تبلیغ اور رسالت کی ادائیگی پر تم سے دنیا کا مال طلب نہیں کرتا بلکہ میں کسی اجرت کے بغیر تمہیں دین کی تعلیم دیتا ہوں اورمیں جھوٹ گھڑنے والوں میں سے نہیں ہوں کہ میں نے اپنی طرف سے نبوت کا دعوی کر دیا ہو اور قران پاک میں نے اپنے پاس سے بنا لیا ہو۔( روح البیان ص تحت الایۃ: ۸۶ ۸ / ۶۷) بلکہ اللہ تعالی نے مجھے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا سردار بنایا ہے اور یہ قران پاک بھی اسی کی طرف سے نازل ہو اہے۔ عالم کو اگر مسئلہ معلوم نہ ہو تو وہ خاموش رہے اور اپنی طرف سے گھڑ کر نہ بتائے: اس ایت سے اشارۃ معلوم ہوا کہ عالم کو اگر کوئی مسئلہ معلوم نہ ہوتو وہ خاموشی اختیار کرے اور خود گھڑ کر نہ بتائے کہ یہ بھی تکلف میں داخل ہے۔ حضرت مسروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ایک شخص کندہ میں یہ بیان کر رہا تھا کہ قیامت کے دن ایک ایسا دھواں ائے گا جو منافقوں کے کانوں اور انکھوں میں داخل ہو جائے گا اور اہل ایمان کو اس سے صرف اتنی تکلیف پہنچے گی جیسے زکام ہو جاتا ہے۔یہ سن کر ہم ڈر گئے چنانچہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور وہ ٹیک لگائے ہوئے تھے (جب میں نے واقعہ بیان کیا ) تو وہ غضبناک ہوئے پھر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا’’جو کسی بات کو جانتا ہو تو کہے اور جو نہ جانتا ہو تو اسے کہنا چاہئے کہ اللہ تعالی خوب جانتا ہے کیونکہ یہ بھی علم ہی سے ہے کہ جس بات کو نہ جانے تو کہہ دے کہ میں نہیں جانتا کیونکہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایا: ’’ قل ما اســٴـلكم علیه من اجر و ما انا من المتكلفین‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: تم فرماؤ: میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا اور میں جھوٹ گھڑنے والوں میں سے نہیں ہوں۔( بخاری کتاب التفسیر سورۃ الم ۳ / ۴۹۷ الحدیث: ۴۷۷۴) حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا’’جو ادمی کسی چیز کا علم رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ لوگوں کو سکھائے اور وہ بات کہنے سے بچے جس کا علم نہ رکھتا ہو ورنہ وہ دین سے نکل جائے گا اور تکلف کرنے والوں میں سے ہو گا۔( سنن دارمی المقدمۃ باب فی الذی یفتی الناس فی کل ما یستفتی ۱ / ۷۴ الحدیث: ۱۷۴) اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائےامین۔ {و لتعلمن نباه: اور ضرور تم اس کی خبر جان لو گے۔} یعنی اے کفار مکہ! ضرور تم ایک وقت کے بعد قران کی خبروں کے حق اور سچا ہونے کو جان جاو گے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ ا س وقت سے مراد موت کے بعد کا وقت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے قیامت کا دن ا جانے کے بعد کا وقت مراد ہے۔( خازن ص تحت الایۃ: ۸۸ ۴ / ۴۸)