IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 39

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ(1)

کتاب کانازل فرمانا اس اللہ کی طرف سے ہے جو عزت والا، حکمت والا ہے۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَﭤ(2)

بیشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کی عبادت کرواسی کے بندے بن کر۔

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُؕ-وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَۘ-مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰىؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ۬ؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ(3)

سن لو! خالص عبادت اللہ ہی کیلئے ہے اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور مددگار بنارکھے ہیں (وہ کہتے ہیں :) ہم تو ان بتوں کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کے زیادہ نزدیک کردیں۔ اللہ ان کے درمیان اس بات میں فیصلہ کردے گا جس میں یہ اختلاف کررہے ہیں بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا، بڑا ناشکرا ہو۔

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُۙ-سُبْحٰنَهٗؕ-هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(4)

اگر اللہ اپنے لیے اولاد بنانے کا ارادہ فرماتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا وہ پاک ہے۔ وہی ایک اللہ سب پر غالب ہے۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّۚ-یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَؕ-كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ(5)

اس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے،وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک، ایک مقررہ مدت تک چلتا رہے گا۔ سن لو! وہی عزت والا،بخشنے والا ہے۔

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍؕ-یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍؕ-ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ(6)

اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے، تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تین اندھیروں میں پیدا کرتا ہے، ایک حالت کی تخلیق کے بعد دوسری حالت کی تخلیق ہوتی ہے۔ یہ اللہ تمہارا رب ہے ،اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ تو تم کہاں پھیرے جاتے ہو؟

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ- وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَۚ-وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْؕ-وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىؕ-ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(7)

اگر تم ناشکری کرو تو بیشک اللہ تم سے بے نیاز ہے اوروہ اپنے بندوں کی ناشکری کو پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف پھرنا ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا ﳓ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ(8)

اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تواپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے پھر جب اللہ اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت دیدے تو وہ اس تکلیف کوبھول جاتا ہے جس کی طرف وہ پہلے پکاررہا تھا اور اللہ کے لئے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ اس کے راستے سے بہکادے۔ تم فرماؤ: تھوڑے دن اپنے کفر کے ساتھ فائدہ اٹھالے بیشک تو دوزخیوں میں سے ہے۔

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآىٕمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖؕ-قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ (9)

کیا وہ شخص جو سجدے اور قیام کی حالت میں رات کے اوقات فرمانبرداری میں گزارتا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید لگا رکھتا ہے (کیا وہ نافرمانوں جیسا ہوجائے گا؟) تم فرماؤ: کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں؟ عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں۔

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌؕ-وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌؕ-اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(10)

تم فرماؤ :اے میرے مومن بندو! اپنے رب سے ڈرو۔ جنہوں نے بھلائی کی، ان کے لیے اِس دنیا میں بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ (11)

تم فرماؤ : مجھے حکم ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اسی کیلئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ(12)

اور مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(13)

تم فرماؤ :بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ (14)

تم فرماؤ :میں اللہ ہی کی عبادت کرتاہوں خالص اس کا بندہ ہوکر۔

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖؕ-قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ(15)

تو تم اس کے سوا جس کی عبادت کرنا چاہتے ہو، کرلو۔ (اے نبی) تم فرماؤ:بلاشبہ نقصان اٹھانے والے وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا۔سن لو! یہی کھلا نقصان ہے۔

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌؕ-ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗؕ-یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ(16)

ان کیلئے ان کے اوپر سے آگ کے پہاڑ ہوں گے اور ان کے نیچے پہاڑ ہوں گے۔ اللہ اپنے بندوں کو اسی سے ڈراتا ہے،اے میرے بندو!توتم مجھ سے ڈرو۔

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰىۚ-فَبَشِّرْ عِبَادِۙ (17)

اورجنہوں نے بتوں کی پوجا سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو میرے بندوں کو خوشخبری سنادو۔

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ(18)

جو کان لگا کر بات سنتے ہیں پھر اس کی بہتربات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقلمند ہیں ۔

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِؕ-اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ (19)

تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہے (وہ نجات والوں کے برابر ہوجائے گا؟ ہرگز نہیں ۔) تو کیا تم اسے جو آگ کا مستحق ہے بچالو گے؟.

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌۙ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ۬ؕ-وَعْدَ اللّٰهِؕ-لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ(20)

لیکن اپنے رب سے ڈرنے والوں کیلئے بلند محلات ہیں جن کے اوپر (مزید) بلند محلات بنے ہوئے ہیں ۔ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں ،یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِ جُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ (21)

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ا سے زمین میں موجود چشموں میں داخل کیا پھر اس سے مختلف رنگوں کی کھیتی نکالتا ہے پھر وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے تو تُو دیکھتا ہے کہ وہ پیلی پڑ جاتی ہے پھر اللہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے، بیشک اس میں عقل مندوں کیلئے نصیحت ہے۔

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(22)

تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے) تو خرابی ہے ان کیلئے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں۔ وہ کھلی گمراہی میں ہیں ۔

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ ﳓ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْۚ-ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ(23)

اللہ نے سب سے اچھی کتاب اتاری کہ ساری ایک جیسی ہے، باربار دہرائی جاتی ہے۔ اس سے ان لوگوں کے بدن پر بال کھڑے ہوتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل اللہ کی یاد کی طرف نرم پڑجاتے ہیں ۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتاہے اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ(24)

تو کیا وہ جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ذریعے برے عذاب کوروکنے کی کوشش کرے گا (وہ نجات پانے والوں کی طرح ہوسکتا ہے؟) اور ظالموں سے فرمایا جائے گا: اپنے کمائے ہوئے اعمال کا مزہ چکھو۔

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ(25)

ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا تو ان کے پاس وہاں سے عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر نہ تھی۔

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(26)

اور اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مز ہ چکھایا اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے بڑا ہے۔ کیا اچھا ہوتا اگر وہ جان لیتے۔

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ (27)

اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی تاکہ وہ نصیحت حاصل کرلیں۔

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(28)

عربی زبان کا قرآن جس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں تاکہ وہ ڈریں ۔

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍؕ-هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًاؕ-اَلْحَمْدُ لِلّٰهِۚ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(29)

اللہ نے ایک غلام آدمی کی مثال بیان فرمائی جس میں کئی بداخلاق آقا شریک ہوں اور ایک ایسا غلام مرد ہو جو خالص ایک ہی کا غلام ہو۔ کیا دونوں کا حال ایک جیسا ہے ؟ سب خوبیاں اللہ کیلئے ہیں بلکہ ان میں اکثر نہیں جانتے۔

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ (30)

۔ (اے حبیب!) بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ (31)

پھر (اے لوگو!) تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗؕ-اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ(32)

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور حق کو جھٹلائے جب وہ اس کے پاس آئے؟ کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ؟

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(33)

اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جس نے ان کی تصدیق کی یہی پرہیز گار ہیں۔

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْؕ-ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَﭕ(34)

ان کیلئے ان کے رب کے پاس ہر وہ چیز ہے جو یہ چاہیں گے۔ یہ نیک بندوں کا صلہ ہے۔

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(35)

تاکہ اللہ ان سے ان کے برے کام مٹا دے جو انہوں نے کیے اور انہیں ان کا اجر دے ان اچھے کاموں پر جو وہ کرتے تھے۔

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗؕ-وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ (36)

کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں؟ اور وہ تمہیں اللہ کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کیلئے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ۔

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ(37)

اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں۔ کیا اللہ سب پر غالب، بدلہ لینے والا نہیں؟

وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُؕ-قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖؕ-قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُؕ-عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ(38)

اور اگر تم ان سے پوچھو :آسمان اور زمین کس نے بنائے؟ تو ضرور کہیں گے: ’’اللہ نے‘‘ تم فرماؤ: بھلا بتاؤ کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس کی بھیجی ہوئی تکلیف کوٹال دیں گے یا اگر اللہ مجھ پر مہربانی فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں ؟تم فرماؤ : مجھے اللہ کافی ہے۔ توکل کرنے والے اسی پربھروسہ کرتے ہیں۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌۚ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ (39)

تم فرماؤ: اے میری قوم!تم اپنی جگہ پرکام کیے جاؤ، میں اپنا کام کرتا ہوں تو عنقریب تم جان لو گے۔

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(40)

کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسواکردے اور کس پرہمیشہ کا عذاب اترتا ہے؟

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّۚ-فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَاۚ-وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ (41)

بیشک ہم نے حق کے ساتھ تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کیلئے اتاری تو جس نے ہدایت پائی تو اپنی ذات کیلئے ہی (پائی) اور جو گمراہ ہوا تو اپنی جان کے خلاف ہی گمراہ ہوا اور تم ان پرکوئی ذمہ دار نہیں ہو۔

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَاۚ-فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(42)

اللہ جانوں کوان کی موت کے وقت وفات دیتا ہے اور جو نہ مریں انہیں ان کی نیند کی حالت میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیتا ہے اسے روک لیتا ہے اور دوسرے کو ایک مقرر ہ مدت تک چھوڑ دیتا ہے ۔بیشک اس میں ضرور سوچنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَؕ-قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ(43)

کیا انہوں نے اللہ کے مقابلے میں کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں ؟ تم فرماؤ :کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں ۔

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًاؕ-لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(44)

تم فرماؤ:تمام شفاعتوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِۚ-وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ(45)

اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے توآخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے دل متنفر ہو جاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے تو اس وقت وہ خوش ہوجاتے ہیں۔

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ(46)

تم عرض کرو: اے اللہ !آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے!ہرپوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے! تو اپنے بندوں میں اس چیز کا فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے۔

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ(47)

اور اگر جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اور اس کے ساتھ اس جیسا اوربھی ظالموں کی ملک میں ہوتا تو قیامت کے دن بڑے عذاب سے چھٹکارے کے عوض وہ سب کا سب دیدیتے اور ان کیلئے اللہ کی طرف سے وہ ظاہر ہوگا جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(48)

اور ان پر ان کے کمائے ہوئے برے اعمال کھل گئے اور ان پر وہی آپڑا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا٘-ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّاۙ-قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍؕ-بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(49)

پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں توکہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے بلکہ وہ توایک آزمائش ہے مگر ان میں اکثر لوگ جانتے نہیں ۔

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(50)

ان سے پہلوں نے بھی ایسے ہی بات کہی تھی تو ان کی کمائیاں ان کے کچھ کام نہ آئیں۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْاؕ-وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْاۙ-وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ(51)

تو اُن کے کمائے ہوئے اعمال کی برائیاں اُنہیں پہنچیں اوراِن میں (بھی) جو ظالم ہیں عنقریب ان پر ان کے کمائے ہوئے اعمال کی برائیاں آپڑیں گی اور وہ اللہ کو بے بس نہیں کرسکتے۔

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ (52)

کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ (بھی) فرماتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں ۔

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(53)

تم فرماؤ :اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ،بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(54)

اور اپنے رب کی طرف رجوع کرواور اس وقت سے پہلے اس کے حضور گردن رکھو کہ تم پر عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ (55)

اورتمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چیزتمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس کی اس وقت سے پہلے پیروی اختیار کرلو کہ تم پر اچانک عذا ب آجائے اور تمہیں خبر (بھی) نہ ہو۔

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ (56)

۔ (پھر ایسا نہ ہو) کہ کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ (57)

یا کہے :اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں سے ہوتا۔

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ(58)

یاجب عذاب دیکھے توکہے :اگر مجھے ایک مرتبہ لوٹنا (نصیب) ہوتا تو میں نیکیاں کرنے والوں میں سے ہوجاتا۔

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(59)

ہاں کیوں نہیں! بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تُو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں سے ہوگیا۔

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌؕ-اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ(60)

اور قیامت کے دن تم اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کو دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے۔ کیامتکبروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ٘-لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(61)

اور اللہ پرہیزگاروں کو ان کی نجات کی جگہ کے ذریعے بچائے گا۔ نہ انہیں عذاب چھوئے گااور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ٘-وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ(62)

اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہرچیز پر نگہبان ہے۔

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ (63)

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کی ملکیت میں ہیں اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ(64)

تم فرماؤ: اے جاہلو! کیا تم مجھے اس بات کاحکم دیتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں ؟.

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَۚ-لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(65)

اور بیشک تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ (اے ہر سننے والے مخاطب!) اگر تو نے شرک کیا تو ضرور تیراہر عمل برباد ہوجائے گا اور ضرور توخسارہ پانے والوں میں سے ہوجائے گا۔

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ(66)

بلکہ اللہ ہی کی بندگی کر اور شکر گزاروں میں سے ہوجا۔

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ﳓ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(67)

اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق تھا اور قیامت کے دن ساری زمین اس کے قبضے میں ہوگی اور اس کی قدرت سے تمام آسمان لپیٹے ہوئے ہوں گے اوروہ ان کے شرک سے پاک اوربلند ہے۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(68)

اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں سب بیہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تواسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(69)

اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی اورکتاب رکھی جائے گی اور انبیاء اور گواہی دینے والے لائے جائیں گے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ (70)

اور ہر جان کو اس کے اعمال کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا اوروہ (اللہ ) خوب جانتا ہے جو لوگ کرتے ہیں ۔

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَاؕ-قَالُوْا بَلٰى وَ لٰـكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ(71)

اور کافروں کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جہنم کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں تمہارے اِس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں مگر عذاب کا قول کافروں پر ثابت ہوگیا۔

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ(72)

کہاجائے گا:جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ،اس میں ہمیشہ رہنا ہے، تو متکبروں کاکیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ(73)

اور اپنے رب سے ڈرنے والوں کو گروہ درگروہ جنت کی طرف چلایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے: تم پر سلام ہو،تم پاکیزہ رہے تو ہمیشہ رہنے کوجنت میں جاؤ۔

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُۚ-فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ(74)

اور وہ کہیں گے :سب خوبیاں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اِس زمین کا وارث کیا ،ہم جنت میں جہاں چاہیں رہیں گے تو کیا ہی اچھا اجر ہے عمل کرنے والوں کا۔

وَ تَرَى الْمَلٰٓىٕكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْۚ-وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ (75)ٛ

اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ ہرطرف سے عرش کو گھیرے ہوئے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کررہے ہیں اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور کہا جائے گا : تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جوتمام جہانوں کا پالنے والاہے۔