Surah An Nisa Ayat 13 (4:13)
The Women · Juz 4 · Madani
تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ 13
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے تو اللہ اسے جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی ۔
Tafseer (Urdu)
{تلك حدود الله: یہ اللہ کی حدیں ہیں۔} وراثت کے مسائل کو اللہ تعالی نے اپنی حدود قرار دیا اور ان کے توڑنے کو اللہ کی حدیں توڑنا قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ میراث کی تقسیم میں ظلم کرنا عذاب الہی کا باعث ہے۔ اس سے ان مسلمانوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو لڑکیوں یا دوسرے وارثوں کو وراثت سے محروم کرتے ہیں۔ حدیث مبارکہ ہے’’ جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرے اللہ تعالی قیامت کے دن اسے جنت میں ا س کے حصے سے محروم کر دے گا۔(ابن ماجہ کتاب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ۳ / ۳۰۴ الحدیث: ۲۷۰۳) {و من یطع الله و رسوله یدخله جنت:اور جو اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرے تو اللہ اسے جنتوں میں داخل فرمائے گا۔} اس ایت میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت پر جنت کا وعدہ ہے اور اگلی ایت میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی پر جہنم کی وعید ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرکار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت فرض ہے اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی حرام ہے۔ نیز کسی بھی حد شرعی کو توڑنا حرام ہے لیکن تمام حدود کو توڑنے والا کافر ہی ہے یعنی جو ایمان کی حد بھی توڑ دیتا ہے اور اگلی ایتوں میں یہی مراد ہے کیونکہ وہاں نافرمان کیلئے ہمیشہ جہنم میں داخلے کی وعید ہے اور جہنم میں ہمیشہ کافر ہی رہے گا مسلمان نہیں۔