Surah An Nisa Ayat 18 (4:18)
The Women · Juz 4 · Madani
وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِۚ-حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْــٴٰـنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان لوگوں کی توبہ نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہنے لگے اب میں نے توبہ کی اور نہ ان لوگوں کی (کوئی توبہ ہے) جو کفر کی حالت میں مریں ۔ ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{و لیست التوبة:اور توبہ قبول نہیں۔} اوپر والی ایت میں توبہ کی قبولیت کا جووعدہ گزرا اس کی وضاحت کردی گئی اب ان افراد کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ جن کی توبہ قبول نہ ہو گی۔ ایت میں ’’سیات ‘‘سے مراد گناہ ہوں تو معنی یہ ہو گا کہ جو لوگ کفر کے علاوہ دیگر گناہوں میں ملوث رہے جب موت کے اثار ظاہر ہوئے عذابات الہی کا مشاہدہ کر لیا اور روح حلق تک اپہنچی اب توبہ کریں تو مقبول نہیں لیکن یہ وقت انے سے ایک لمحہ پہلے بھی اگر توبہ کر لی تو قبول ہے اور اگر ان مسلمانوں کی توبہ مقبول نہ بھی ہو تب بھی وہ افراد ہمیشہ جہنم میں نہ رہیں گے اللہ تعالی چاہے تو انہیں بخش دے چاہے تو سزا دے لیکن سزا پوری ہونے کے بعد جنت میں جائیں گے البتہ وہ لوگ جو کافر مرے قیامت کے دن ان کی توبہ قبول نہیں یعنی کسی صورت نجات نہ پائیں گے ہمیشہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ ایت میں ’’سیات ‘‘ سے مراد کفر ہے اس صورت معنی یہ ہو گا کہ وہ کفار جو موت کے اثار دیکھ کر یعنی غیب کا مشاہدہ کرنے کے بعد اپنے کفر سے توبہ کریں اور اپنے ایمان کا اقرار کریں تو ان کی یہ توبہ اور اقرار ایمان قابل قبول نہیں ایسی توبہ تو فرعون نے بھی کی تھی یونہی وہ لوگ جو حالت کفر میں مر گئے یعنی بوقت موت بھی توبہ نہ کی تو وہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی سزا پائیں گے۔(تفسیر قرطبی النساء تحت الایۃ: ۱۸ ۳ / ۶۶ الجزء الخامس تفسیر کبیر النساء تحت الایۃ: ۱۸ ۴ / ۸ ملتقطا) کافر کے لئے دعائے مغفرت کرنے کا شرعی حکم: جو کسی کافر کے لئے ا س کے مرنے کے بعد اس کے کفر کا علم ہونے کی صورت میں دعائے مغفرت کرے یا کسی مردہ مرتد کو مرحوم یا مغفور کہے یا کسی مرے ہوئے ہندو کو بیکنٹھ باشی (یعنی جنتی) کہے وہ خود کافر ہے۔(بہار شریعت حصہ اول ایمان وکفر کا بیان ۱ / ۱۸۵) اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ما كان للنبی و الذین امنوا ان یستغفروا للمشركین و لو كانوا اولی قربى من بعد ما تبین لهم انهم اصحب الجحیم( توبہ: ۱۱۳) ترجمہ کنزالعرفان:نبی اور ایمان والوں کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان کے لئے واضح ہوچکا ہے کہ وہ دوزخی ہیں۔