Surah An Nisa Ayat 32 (4:32)
The Women · Juz 5 · Madani
وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْاؕ-وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَؕ-وَ سْــٴَـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تم ا س چیز کی تمنا نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پرفضیلت دی ہے ۔ مردوں کے لئے ان کے اعمال سے حصہ ہے، اور عورتوں کے لئے ان کے اعمال سے حصہ ہے اوراللہ سے اس کا فضل مانگو ۔ بیشک اللہ ہر شے کو جاننے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی مردوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی کمائی سے حصہ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو بے شک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تتمنوا ما فضل الله به:اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے بڑائی دی۔} جب ایک انسان دوسرے کے پاس کوئی ایسی نعمت دیکھتا ہے جو اس کے پا س نہیں تو ا س کا دل تشویش میں مبتلا ہو جاتا ہے ایسی صورت میں اس کی حالت دو طرح کی ہوتی ہے(1) وہ انسان یہ تمنا کرتا ہے کہ یہ نعمت دوسرے سے چھن جائے اور مجھے حاصل ہو جائے۔ یہ حسد ہے اور حسد مذموم اور حرام ہے۔ (2) دوسرے سے نعمت چھن جانے کی تمنا نہ ہو بلکہ یہ ارزو ہو کہ اس جیسی مجھے بھی مل جائے اسے غبطہ کہتے ہیں یہ مذموم نہیں۔ (تفسیرکبیر النساء تحت الایۃ: ۳۲ ۴ / ۶۵) لہذا اللہ تعالی نے جس بندے کو دین یا دنیا کی جہت سے جو نعمت عطا کی اسے اس پر راضی رہنا چاہئے۔ شان نزول: جب آیت میراث میں ’’للذكر مثل حظ الانثیین‘‘والا حصہ نازل ہوا اور میت کے ترکہ میں مرد کا حصہ عورت سے دگنا مقرر کیا گیا تو مردوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ آخرت میں نیکیوں کا ثواب بھی ہمیں عورتوں سے دگنا ملے گا اور عورتوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ گناہ کا عذاب ہمیں مردوں سے آدھا ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالی نے جس کو جو فضیلت دی وہ عین حکمت ہے بندے کو چاہئے کہ وہ اس کی قضا پر راضی رہے۔(خازن النساء تحت الایۃ: ۳۲ ۱ / ۳۷۲) دل کے صبر و قرار کا نسخہ: دل کے صبر و قرار کا نسخہ ہی اللہ عزوجل کی رضا پر راضی رہنا ہے ورنہ دنیا میں کوئی شخص کسی نعمت کی انتہاء کو نہیں پہنچا ہوا اور اگر بالفرض کوئی پہنچا بھی ہو تو کسی دوسری نعمت میں ضرور کم تر ہوگا تو اگر دل کو انہی ارزوؤں اور تمناوں کا مرکز بنا کر رکھا تو ہزاروں نعمتوں کا مالک ہوکر بھی دل کو قرار نہیں مل سکتا جیسے ایک ادمی ایک ارب روپے کا مالک ہے لیکن خوبصورت نہیں تو اگر وہ خوبصورتی کی تمنا کرتا رہے گا تو جینا دوبھر ہوجائے گا اور اگر ایک ادمی خوبصورت ہے لیکن جیب میں پیسہ نہیں اور وہ پیسے کو روتا رہے گا تو بھی بے قرار رہے گا اور جس کے پاس پیسہ اور خوبصورتی کچھ نہ ہو لیکن وہ کہے کہ میں اللہ عزوجل کی رضا پر راضی ہوں اور پھر وہ صبر کرکے اخرت کے ثواب کو پیش نظر رکھے تو یقینا ایسا ادمی دل کا سکون پالے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر ابن ادم کے پا س مال کی دو وادیاں بھی ہوں تو وہ یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس تیسری وادی بھی ہو اور اس کاپیٹ تو مٹی ہی بھر سکتی ہے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمائے گا جو توبہ کرے۔ (بخاری کتاب الرقاق باب ما یتقی من فتنۃ المال ۴ / ۲۲۸ الحدیث: ۶۴۳۶) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنے سے نیچے والے کو دیکھو اور جو تم سے اوپر ہو اسے نہ دیکھو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اللہ تعالی کی اپنے اوپر نعمت کو حقیر جانو۔ (مسلم کتاب الزہد والرقائق ص۱۵۸۴ الحدیث: ۹(۲۹۶۳)) {للرجال نصیب مما اكتسبوا: مردوں کے لئے ان کی کمائی سے حصہ ہے۔} میاں بیوی میں سے ہر ایک کو اس کے اپنے نیک اعمال کی جزا ملے گی دونوں کا نیک اور پرہیز گار ہونا انہیں اعمال سے بے نیاز نہ کرے گا۔ شان نزول : ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی ا للہ تعالی عنہانے فرمایا کہ ہم بھی اگر مرد ہوتے تو جہاد کرتے اور مردوں کی طرح جان فدا کرنے کا ثواب عظیم پاتے۔ (جلالین النساء تحت الایۃ: ۳۲ ص۲۷) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں تسکین دی گئی کہ مرد جہاد سے ثواب حاصل کرسکتے ہیں تو عورتیں شوہروں کی فرمانبرداری اور پاکدامنی سے ثواب حاصل کرسکتی ہیں۔ {و ســٴـلوا الله من فضله:اور اللہ سے اس کا فضل مانگو۔} سبحان اللہ دلوں کے قرار کا کتنا پیارا بیان فرمایا کہ اللہ عزوجل سے اس کا فضل مانگو کہ حقیقت میں سب سے بڑی چیز اللہ کریم کا فضل و کرم ہے۔ اعمال میں کسی کو دوسرے سے لاکھ گنا زیادہ بھی ثواب ملتا ہو لیکن اس کے باوجود وہ اللہ عزوجل کے فضل ہی کا محتاج ہے کیونکہ اس کا جنت میں داخلہ تو اللہ عزوجل کے فضل ہی سے ہوگا ۔ بغیر فضل کے اپنے عمل سے کوئی جنت میں نہیں جائے گا لہذا اللہ عزوجل سے اس کا فضل مانگنا چاہیے۔