Surah An Nisa Ayat 37 (4:37)
The Women · Juz 5 · Madani
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا 37
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ لوگ جو خود بخل کرتے ہیں اور دیگر لوگوں کو بخل کا کہتے ہیں اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپاتے ہیں (ان کے لئے شدید وعید ہے) اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لیے کہیں اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائیں اور کافروں کے لیے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الذین یبخلون:وہ لوگ جو خود بخل کرتے ہیں۔} لغت عرب میں بخل سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے فضل سے جومال دیا اس میں سے سائل کو نہ دینا اور بخل کی شرعی تعریف یہ ہے کہ جو چیز ذمہ میں واجب ہو اسے ادا نہ کرنا۔(بغوی النساء تحت الایۃ: ۳۷ ۱ / ۳۳۹) اور صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : بخل یہ ہے کہ خود کھائے دوسرے کو نہ دے۔ شح یہ ہے کہ نہ کھائے نہ کھلائے۔ سخایہ ہے کہ خود بھی کھائے اور دوسروں کو بھی کھلائے جودیہ ہے کہ آپ نہ کھائے دوسرے کو کھلائے۔(خزائن العرفان النساء تحت الایۃ: ۳۷ ص۱۶۶ مدارک النساء تحت الایۃ: ۳۷ ص۲۲۷) یہاں بخل سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے توریت میں مذکور اوصاف بیان کرنے میں بخل کرنا اورا س کا حکم دینا۔ شان نزول: یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو توریت میں مذکورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اوصاف بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے تھے۔ (خازن النساء تحت الایۃ: ۳۷ ۱ / ۳۷۹) ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد مال خرچ کرنے میں بخل کرنا ہے۔ (تفسیر کبیر النساء تحت الایۃ: ۳۷ ۴ / ۷۸) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’دو خصلتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہو سکتیں بخل اور بدخلقی۔(ترمذی کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی البخل ۳ / ۳۸۷ الحدیث: ۱۹۶۹) تنبیہ: اس سے موجودہ زمانے کے ان علماء کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اوصاف حمیدہ خود بھی بیان نہیں کرتے اور بیان کرنے والوں کو بھی طرح طرح کے حیلے بہانے کر کے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے پھر کہے مردک کہ ہوں امت رسول اللہ کی نوٹ:بخل کے بارے میں کافی تفصیل سورہ ال عمران ایت180 میں گزر چکی ہے۔ {و یكتمون ما اتىهم الله من فضله:اور اللہ نے جو انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپاتے ہیں۔} اللہ عزوجل جو نعمت عطا فرمائے اسے اچھی نیت کے ساتھ موقع محل کی مناسبت سے حکمت کو سامنے رکھتے ہوئے ظاہر کرنا چاہیے۔ حضرت ابو الاحوص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میرے والد پراگندہ بال اور ناپسندیدہ ہیئت میں سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تیرے پاس مال نہیں عرض کی:یا رسول اللہ!صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مجھے اللہ تعالی نے ہر طرح کا مال عطا فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا: اللہ تعالی بندے کو جب کوئی نعمت عطا فرمائے تو اس کا اثر بندے پر دیکھنا پسند فرماتا ہے۔(مسند امام احمد مسند المکیین حدیث مالک بن نضلۃ ابی الاحوص رضی اللہ تعالی عنہ ۵ / ۳۸۴ الحدیث: ۱۵۸۹۲) مسئلہ:اللہ عزوجل کی نعمت کا اظہار اخلاص کے ساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے اور اس لئے آدمی کو اپنی حیثیت کے لائق جائز لباسوں میں بہتر پہننا مستحب ہے۔