Surah An Nisa Ayat 5 (4:5)
The Women · Juz 4 · Madani
وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورکم عقلوں کوان کے وہ مال نہ دو جسے اللہ نے تمہارے لئے گزر بسر کا ذریعہ بنایا ہے اور انہیں اس مال میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بے عقلوں کو ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تؤتوا السفهآء اموالكم: اور کم عقلوں کو ان کے مال نہ دو۔} اس ایت میں چند احکام بیان فرمائے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جن بچوں کی پرورش تمہارے ذمہ ہے اور ان کا مال تمہارے پاس ہے اور وہ بچے اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ مال کا مصرف پہچانیں بلکہ وہ اسے بے محل خرچ کرتے ہیں اور اگران کا مال ان پر چھوڑ دیا جائے تو وہ جلد ضائع کردیں گے حالانکہ مال کی بہت اہمیت ہے کہ اسی کے ساتھ زندگی کی بقا ہے لہذا جب تک مال کی اچھی طرح سمجھ بوجھ انہیں حاصل نہ ہوجائے تب تک ان کے مال ان کے حوالے نہ کرو بلکہ ان کی ضروریات جیسے کھانے پینے اور پہننے کے اخراجات وغیرہ ان کے مال سے پورے کرتے رہو۔ البتہ ان سے اچھی بات کہتے رہو جس سے ان کے دل کو تسلی رہے اور وہ پریشان نہ ہوں مثلا ان سے کہو کہ بھائی! مال تمہارا ہی ہے اور جب تم ہوشیار سمجھدار ہوجاو گے تو یہ تمہارے حوالے کردیا جائے گا۔(مدارک النساء تحت الایۃ: ۵ ص۲۱۰) اچھی بات کہنے کا معنی یہاں مفسرین نے وہ لیا ہے جو اوپر بیا ن ہو االبتہ مطلقا اچھی بات میں بہت سی چیزیں داخل ہیں یہ بھی اس میں داخل ہے کہ ان کو اداب زندگی سکھاو کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے بات چیت کرنے سب کاموں میں ان کی تربیت کرو۔