Surah An Nisa Ayat 74 (4:74)
The Women · Juz 5 · Madani
فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِؕ-وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا 74
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپس جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں بیچ دیتے ہیں انہیں چاہیے کہ اللہ کی راہ میں لڑیں اور جواللہ کی راہ میں لڑے پھر شہید کردیا جائے یا غالب آجائے تو عنقریب ہم اسے بہت بڑا ثواب عطا فرمائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اسے بڑا ثواب دیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{فلیقاتل فی سبیل الله: تواللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے۔} یہاں اہل ایمان کا بیان ہے کہ جن لوگوں کی نگاہیں اخرت کی زندگی پر لگی ہوئی ہیں اور وہ اخرت کی خاطر دنیا کی زندگی قربان کرنے کو تیار ہیں انہیں اللہ عزوجل کی راہ میں لڑنا چاہیے اور اس میں دنیوی نفع کا ہرگز خیال نہ کریں بلکہ ان کا مطلوب و مقصود اللہ عزوجل کی رضا دین اسلام کی سربلندی اور حق کا بول بالاہونا چاہیے۔ جب اس نیت سے کوئی جہاد کرے گا تو وہ شہید ہوجائے یا بچ کر اجائے دونوں صورتوں میں بارگاہ الہی میں مقبول ہوجائے گا اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عظیم اجر کا مستحق ہوگا۔ حضرت انس بن نضررضی اللہ تعالی عنہ کا جذبہ شہادت: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’میرے چچا حضرت انس بن نضررضی اللہ تعالی عنہ غزوہ بدر میں نہ جاسکے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کی :اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مشرکین سے جو پہلی جنگ کی تھی میں اس میں حاضر نہ ہو سکا۔ اگراب اللہ تعالی نے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کاموقع دیا تو اللہ تعالی دکھا دے گا جو میں کروں گا پھر جب غزوہ احد کا موقع ایا توکچھ لوگ بھاگنے لگے حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: اے میرے پروردگار عزوجل! ان بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں میں ان کی طرف سے معذرت خواہ ہوں اور جو مشرک ہیں میں ان سے بری ہوں۔ پھر اپ رضی اللہ تعالی عنہ تلوار لے کر میدان جنگ کی طرف دیوانہ وار بڑھے۔ راستے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے ملاقات ہوئی تو فرمایا ’’اے سعد ! رضی ا للہ تعالی عنہ جنت۔ اس پاک پرورد گار عزوجل کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں احد پہاڑ کے قریب جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : جیسا کارنامہ انہوں نے سر انجام دیا ہم ایسا نہیں کر سکتے ۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :ہم نے انہیں شہیدوں میں اس حال میں پایا کہ ان کے جسم مبارک پر تیروں تلواروں اور نیزوں کے اسی(80) سے زائد زخم تھےاور اپ رضی اللہ تعالی عنہ کے اعضاء جگہ جگہ سے کاٹ دیئے گئے تھے اپ رضی ا للہ تعالی عنہ کو پہچاننابہت مشکل ہوچکاتھا ۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمشیرہ نے اپ کوانگلیوں کے نشانات سے پہچانا۔(بخاری کتاب الجہاد والسیر باب قول اللہ تعالی: من المومنین رجال صدقوا۔۔۔ الخ ۲ / ۲۵۵ الحدیث: ۲۸۰۵ عیون الحکایات الحکایۃ العاشرۃ ص۲۷ ملتقطا)