Surah An Nisa Ayat 76 (4:76)
The Women · Juz 5 · Madani
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِۚ-اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا 76
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariایمان والے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو تم شیطان کے دوستوں سے جہاد کرو بیشک شیطان کا مکرو فریب کمزور ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے لڑو بے شک شیطان کا داؤ کمزور ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الم تر: کیا تم نے نہ دیکھا۔} اس ایت مبارکہ کا شان نزول یوں ہے کہ مشرکین مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو بہت ایذائیں دیتے تھے ۔ہجرت سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ایک جماعت نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے انہوں نے ہمیں بہت ستایا ہے اور بہت ایذائیں دی ہیں۔ حضور انورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے ساتھ جنگ کرنے سے ابھی ہاتھ روک کر رکھو اور ابھی صرف نماز اور زکوۃ ادا کرو۔ اسی کے متعلق فرمایا کہ کیا تم نے ان لوگوں کونہ دیکھا جن سے شروع اسلام میں مکہ مکرمہ میں کہا گیا کہ ابھی جہاد سے اپنے ہاتھ روکے رکھو اور ابھی صرف نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو ۔ (خازن النساء تحت الایۃ: ۷۷ ۱ / ۴۰۳) لیکن پھر جب مدینہ منورہ میں ان پر جہاد فرض کیا گیا تو وہ اس وقت طبعی خوف کا شکار ہوگئے جو انسانی فطرت ہے اور حالت یہ تھی کہ ان میں ایک گروہ لوگوں سے ایسے ڈرنے لگا جیسے اللہ عزوجل سے ڈرنا ہوتا ہے یا اس سے بھی کچھ زیادہ ہی خوفزدہ تھا اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! عزوجل تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا اس کی حکمت کیا ہے یہ سوال حکمت دریافت کرنے کے لئے تھا اعتراض کرنے کیلئے نہیں۔اسی لئے ان کو اس سوال پر توبیخ وزجرنہ فرمایا گیا بلکہ تسلی بخش جواب عطا کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تم ان سے فرما دو کہ دنیا کا ساز و سامان تھوڑا ساہے فنا ہونے والا ہے جبکہ پرہیز گاروں کے لئے اخرت تیار کی گئی ہے اور وہی ان کیلئے بہتر ہے ۔ لہذا جہاد میں خوشی سے شرکت کرو۔