Surah An Nisa Ayat 8 (4:8)
The Women · Juz 4 · Madani
وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب تقسیم کرتے وقت رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تواس مال میں سے انہیں بھی کچھ دیدو اور ان سے اچھی بات کہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو اور ان سے اچھی بات کہو ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا حضر القسمة اولوا القربى: اور جب تقسیم کرتے وقت رشتہ دار آجائیں۔} جن افراد کا وراثت میں حصہ ہے ان کا بیان تو تفصیل کے ساتھ بعد کی ایتوں میں مذکور ہے ان کے علاوہ دیگر رشتے داروں اور محتاج افراد کے بارے میں فرمایا کہ انہیں بھی وراثت تقسیم کرنے سے پہلے مال میں سے کچھ دیدیا کرو اور ان سے اچھی بات کہو جیسے یہ کہ یہ مال تودرحقیقت وارثوں کا حصہ ہے لیکن تمہیں ویسے ہی تھوڑا سا دیا گیا ہے یونہی ان کیلئے دعا کردی جائے۔ وراثت تقسیم کرنے سے پہلے غیر وارثوں کو دینا : اس ایت میں غیر وارثوں کو وراثت کے مال میں سے کچھ دینے کا جوحکم دیا گیا ہے یہ دینا مستحب ہے ۔ امام محمد بن سیرین رحمۃاللہ تعالی علیہ سے مروی ہے حضرت عبیدہ سلمانی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے میراث تقسیم کی تو اسی ایت پر عمل کرتے ہوئے ایک بکری ذبح کروا کر کھانا پکوایا پھر یتیموں میں تقسیم کر دیا اور کہا اگر یہ ایت نہ ہوتی تو میں یہ سب خرچہ اپنے مال سے کرتا۔(خازن النساء تحت الایۃ: ۸ ۱ / ۳۴۸) تفسیر قرطبی میں یوں ہے کہ’’یہ عمل عبیدہ سلمانی اور امام محمد بن سیرین رحمۃاللہ تعالی علیہما دونوں نے کیا۔ (قرطبی النساء تحت الایۃ: ۸ ۳ / ۳۶ الجزء الخامس) در منثور میں ایک روایت یہ ہے کہ’’حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہما نے جب اپنے والد کی میراث تقسیم کی تو اسی مال سے ایک بکری ذبح کروا کر کھانا پکوایا جب یہ بات حضرت عائشہ صدیقہ رضی ا للہ تعالی عنہا کی بارگاہ میں عرض کی گئی تو انہوں نے فرمایا: عبد الرحمن رضی اللہ تعالی عنہ نے قران پر عمل کیا۔(در منثور النساء تحت الایۃ: ۸ ۲ / ۴۴۰) اس مستحب حکم پر یوں بھی عمل ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات کوئی بیٹا یتیم بچے چھوڑ کر فوت ہوجاتا ہے اور اس کے بعد باپ کا انتقال ہوتا ہے تو وہ یتیم بچے چونکہ پوتے بنتے ہیں اور چچا یعنی فوت ہونے والے کا دوسرا بیٹا موجود ہونے کی وجہ سے یہ پوتے داد ا کی میراث سے محروم ہوتے ہیں تو دادا کو چاہیے کہ ایسے پوتوں کو وصیت کر کے مال کا مستحق بنا دے اور اگر دادا نے ایسا نہ کیا ہو تو وارثوں کو چاہیے کہ اوپر والے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے حصہ میں سے اسے کچھ دے دیں۔ اس حکم پر عمل کرنے میں مسلمانوں میں بہت سستی پائی جاتی ہے بلکہ اس حکم کا علم ہی نہیں ہوتا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نابالغ اور غیر موجود وارث کے حصہ میں سے دینے کی اجازت نہیں۔