Surah An Nisa Ayat 82 (4:82)
The Women · Juz 5 · Madani
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ-وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا 82
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اور اگریہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔
Tafseer (Urdu)
{افلا یتدبرون القران : تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔} یہاں قران کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قران حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے علوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے کہ اس نے اپنی فصاحت سے تمام مخلوق کو اپنے مقابلے سے عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکروفریب کو کھول کر رکھ دیاہے اور اولین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔ اگر قران میں غور کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ اللہ عزوجل کا کلام ہے اور اسے لانے والا اللہ عزوجل کا رسول ہے۔ قران مجید میں غورو فکر کرنا عبادت ہے لیکن! اس سے معلوم ہوا کہ قران میں غور و فکر کرنا اعلی درجے کی عبادت ہے۔ امام غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ ایک ایت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قران پڑھنے سے بہتر ہے۔(احیاء علوم الدین کتاب التفکر بیان مجاری الفکر ۵ / ۱۷۰) قران کا ذکر کرنا اسے پڑھنا دیکھنا چھونا سب عبادت ہے۔ قران میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ قران میں وہی غوروفکر معتبر اور صحیح ہے جو صاحب قران صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرامین اور حضور پرنورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحبت یافتہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اور ان سے تربیت حاصل کرنے والے تابعین رحمۃ اللہ تعالی علیہم کے علوم کی روشنی میں ہو کیونکہ وہ غور و فکر جو اس ذات کے فرامین کے خلاف ہو جن پر قران اترا اور اس غور و فکر کے خلاف ہو جو وحی کے نزول کا مشاہدہ کرنے والے بزرگوں کے غوروفکر کے خلاف ہو وہ یقینا معتبر نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے دور جدید کے ان نت نئے محققین سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علماء فقہاءمحدثین ومفسرین اور ساری امت کے فہم کو غلط قرار دے کر قولا یا عملا یہ کہتے نظر اتے ہیں کہ قران اگر سمجھا ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے پچھلی ساری امت جاہل ہی گزر گئی ہے۔ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں۔ {و لو كان من عند غیر الله : اور اگر یہ قران اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا۔}یہاں قران پاک کی حقانیت پر ایک نہایت اسان اور واضح دلیل دی جارہی ہے کہ اگر قران پاک اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت زیادہ اختلاف ہوتا اس میں جو غیب کی خبریں دی گئی ہیں وہ سو فیصد پوری نہ ہوتیں بلکہ کوئی بات توپوری ہوجاتی اور کوئی نہ ہوتی لیکن جب ایسا نہ ہوا بلکہ قرآن پاک کی تما م غیبی خبریں بالکل سچی ثابت ہورہی ہیں تو ثابت ہوا کہ یقینا یہ کتاب اللہ عزوجل کی طرف سے ہے نیز اس کے مضامین میں بھی باہم اختلاف نہیں کہ کہیں کوئی بات کہہ دی اور کہیں اس کے برخلاف کوئی دوسری بات کہہ دی۔ اسی طرح فصاحت و بلاغت میں بھی اس میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ مخلوق کا کلام فصیح بھی ہو تو سب یکساں نہیں ہوتا کچھ بلاغت سے بھرپور ہوتا ہے تو کچھ رکیک و گھٹیا قسم کا ہوتا ہے جیسا کہ شعراء اور زباندانوں کے کلام میں دیکھا جاتا ہے کہ بڑے سے بڑے شاعر کا کوئی کلام بڑا شاندار ہوتا ہے اور کوئی بالکل گیا گزرا۔ لیکن قران چونکہ اللہ تعالی کا کلام ہے اوراللہ تعالی ہی کے کلام کی شان ہے کہ اس کا تمام کلام فصاحت و بلاغت کے اعلی مرتبے پر ہے۔