Surah An Nisa Ayat 93 (4:93)
The Women · Juz 5 · Madani
وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا 93
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ جہنم ہے عرصہ دراز تک اس میں رہے گا اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب۔
Tafseer (Urdu)
{و من یقتل: اور جو قتل کرے۔} اس سے پہلی ایت میں غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر دینے کا حکم بیان کیا گیا اور اس ایت میں جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرنے کی اخروی وعید بیان کی گئی ہے۔(تفسیر کبیر النساء تحت الایۃ: ۹۳ ۴ / ۱۸۲) مسلمان کو ناحق قتل کرنے کی مذمت: کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنا شدید ترین کبیرہ گناہ ہے اور کثیر احادیث میں ا س کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ان میں سے 4احادیث درج ذیل ہیں: (1)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک کسی جان کو( ناحق) قتل کرنا ہے۔ (بخاری کتاب الدیات باب قول اللہ تعالی: ومن احیاہا ۴ / ۳۵۸ الحدیث: ۶۸۷۱) (2)…کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا قیامت کے دن بڑے خسارے کا شکار ہو گا۔ حضرت ابو بکرہ رضی ا للہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر زمین و اسمان والے کسی مسلمان کے قتل پر جمع ہوجائیں تواللہ تعالی سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے۔(معجم صغیر باب العین من اسمہ علی ص۲۰۵ الجزء الاول) (3)…حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہےرسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے لڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ راوی فرماتے ہیں : میں نے عرض کی: مقتول جہنم میں کیوں جائے گا ارشاد فرمایا: اس لئے کہ وہ اپنے ساتھی کو قتل کرنے پرمصر تھا۔(بخاری کتاب الایمان باب وان طائفتان من المومنین اقتتلوا۔۔۔ الخ ۱ / ۲۳ الحدیث: ۳۱) (4)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مومن کے قتل پر ایک حرف جتنی بھی مدد کی تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس حال میں ائے گا کہ اس کی دونوں انکھوں کے درمیان لکھا ہو گا ’’یہ اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہے۔‘‘(ابن ماجہ کتاب الدیات باب التغلیظ فی قتل مسلم ظلما ۳ / ۲۶۲ الحدیث: ۲۶۲۰) افسوس کہ اج کل قتل کرنا بڑا معمولی کام ہوگیا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جان سے مار دینا غنڈہ گردی دہشت گردی ڈکیتی خاندانی لڑائی تعصب والی لڑائیاں عام ہیں۔ مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جاتا ہے گروپ اور جتھے اور عسکری ونگ بنے ہوئے ہیں جن کا کام ہی قتل و غارتگری کرنا ہے۔ مسلمانوں کا باہمی تعلق کیساہونا چاہئے ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق کیسا ہونا چاہئے اس بارے میں 5 احادیث درج ذیل ہیں : (1)…حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون۔۔۔ الخ ۱ / ۱۵ الحدیث: ۱۰) (2)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرورکائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسندکرتا ہے۔(بخاری کتاب الایمان باب من الایمان ان یحب لاخیہ۔۔۔ الخ ۱ / ۱۶ الحدیث: ۱۳) (3)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے حقیر جانے ۔ تقوی یہاں ہے اور اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ فرمایا۔ انسان کے لیے یہ برائی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ۔ مسلمان پر مسلمان کی ہر چیز حرام ہے اس کا خون اس کا مال اس کی آبرو۔ (مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ۔۔۔ الخ ص۱۳۸۶ الحدیث: ۳۲(۲۵۶۴)) (4)…حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ و ہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اور اچھی باتوں کا حکم نہ دے اور بری باتوں سے منع نہ کرے۔ (ترمذی کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی رحمۃ الصبیان ۳ / ۳۶۹ الحدیث: ۱۹۲۸) (5)… حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔(مسلم کتاب الایمان باب بیان قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: سباب المسلم۔۔۔ الخ ص۵۲ الحدیث: ۱۱۶(۶۴)) مسلمان کو قتل کرنا کیسا ہے اگر مسلمانو ں کے قتل کو حلال سمجھ کر اس کا ارتکاب کیا تو یہ خود کفر ہے اور ایسا شخص ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور قتل کو حرام ہی سمجھا لیکن پھر بھی اس کا ارتکاب کیا تب یہ گناہ کبیرہ ہے اور ایسا شخص مدت دراز تک جہنم میں رہے گا۔ ایت میں ’’خالدا ‘‘کا لفظ ہے اس کا ایک معنی ہمیشہ ہوتا ہے اور دوسرا معنی عرصہ دراز ہوتا ہے یہاں دوسرے معنی میں مذکور ہے۔