IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 40

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

حٰمٓۚ (1)

حم۔

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ (2)

کتاب کا نازل فرمانا اللہ کی طرف سے ہے جو عزت والا، علم والاہے۔

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِۙ-ذِی الطَّوْلِؕ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ(3)

گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا، بڑے انعام والاہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی کی طرف پھرنا ہے۔

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ(4)

اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑا کرتے ہیں تو اے سننے والے! ان کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکا نہ دے۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ۪-وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ- فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ(5)

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں نے جھٹلایااور ہر امت نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں اور باطل کے ذریعے جھگڑتے رہے تا کہ اس سے حق کومٹا دیں تو میں نے انہیں پکڑلیاتو میرا عذاب کیسا ہوا ؟

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ (6)

اور یونہی تمہارے رب کی بات کافروں پر ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں۔

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۚ-رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ(7)

عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد موجود (فرشتے) اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمانوں کی بخشش مانگتے ہیں۔اے ہمارے رب!تیری رحمت اور علم ہر شے سے وسیع ہے تو انہیں بخش دے جوتوبہ کریں اور تیرے راستے کی پیروی کریں اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ ﹰالَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ (8)

اے ہمارے رب!اور انہیں اور ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں ان کو ہمیشہ رہنے کے ان باغوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے، بیشک تو ہی عزت والا، حکمت والا ہے۔

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِؕ-وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَىٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗؕ-وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ (9)

اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے اور جسے تونے اس دن گناہوں کی شامت سے بچالیا تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایااور یہی بڑی کامیابی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ(10)

بیشک کافروں کو ندا دی جائے گی کہ یقینا اللہ کی تم سے ناراضی اس سے بڑھ کر ہے جو (آج) تمہیں اپنی جانوں سے ہے کیونکہ جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتاتھا تو تم کفر کرتے تھے۔

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ(11)

وہ کہیں گے: اے ہمارے رب !تو نے ہمیں دومرتبہ موت دی اور دومرتبہ زندہ کیا تو اب ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے توکیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْۚ-وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْاؕ-فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ(12)

یہ اس وجہ سے ہے کہ جب ایک اللہ کوپکارا جاتاتھا تو تم کفر کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم مان لیتے تھے توہر حکم اس اللہ کا ہے جو بلند ی والا،بڑائی والاہے۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًاؕ-وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ(13)

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے اور نصیحت نہیں مانتا مگر وہی جو رجوع کرے۔

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ(14)

تو اللہ کی بندگی کرو، خالص اسی کے بندے بن کر ،اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو ۔

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِۚ-یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ (15)

۔(اللہ ) بلند درجات دینے والا، عرش کامالک ہے۔ وہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے تا کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے۔

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ ﳛ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌؕ-لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(16)

جس دن وہ بالکل ظاہر ہوجائیں گے۔ ان کے حال میں سے کوئی چیز اللہ پر پوشیدہ نہیں ہوگی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ ایک اللہ کی جو سب پر غا لب ہے۔

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْؕ-لَا ظُلْمَ الْیَوْمَؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(17)

آج ہر جان کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ۔آج کسی پر زیادتی نہیں ہوگی، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ۬ؕ-مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُﭤ(18)

اور انہیں قریب آنے والی آفت کے دن سے ڈراؤ،جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے اس حال میں کہ غم میں بھرے ہوں گے ۔ ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے۔

یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(19)

اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّؕ-وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ (20)

اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے، اور اس کے سوا جن کووہ پوجتے ہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرتے بیشک اللہ ہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْؕ -وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ(21)

تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا تو دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیسا انجام ہوا ؟ وہ پہلے لوگ قوت اور زمین میں چھوڑی ہوئی نشانیوں کے اعتبار سے ان سے بڑھ کر تھے تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب پکڑلیا اور ان کیلئے اللہ سے کوئی بچانے والا نہ تھا۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(22)

یہ گرفت اس لیے ہوئی کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں پکڑلیا، بیشک اللہ قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ (23)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ(24)

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو وہ بولے جادو گر ہے ،بڑا جھوٹا ہے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْؕ-وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ(25)

پھر جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لایا تو انہوں نے کہا: اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کے بیٹوں کو قتل کردو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو اور کافروں کا مکروفریب تو گمراہی میں ہی ہے۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ(26)

اور فرعون نے کہا:مجھے چھوڑدو تاکہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے رب کو بلالے۔بیشک مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فسادظاہر کرے گا۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ (27)

اور موسیٰ نے کہا: میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر اس متکبر سے جو حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتا۔

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ﳓ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْؕ-وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗۚ-وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ(28)

اور فرعون والوں میں سے ایک مسلمان مرد نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپاتا تھا: کیاتم ایک مرد کو اس بنا پر قتل کرنا چاہ رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور بیشک وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن نشانیاں لے کر آیا ہے اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان ہی پرہے اور اگر وہ سچے ہیں تو جس عذاب کی وہ تمہیں وعید سنارہے ہیں اس کا کچھ حصہ تمہیں پہنچ جائے گا۔بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا، بڑا جھوٹا ہو ۔

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ٘-فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَاؕ-قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ(29)

اے میری قوم!زمین میں غلبہ رکھتے ہوئے آج بادشاہی تمہاری ہے تو اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچالے گا اگر ہم پر آئے۔ فرعون بولا میں تو تمہیں وہی سمجھاتا ہوں جو میں خود سمجھتا ہوں اور میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ (30)

اور وہ ایمان والا بولا اے میری قوم!مجھے تم پر (گزشتہ)گروہوں کے دن جیساخوف ہے۔

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْؕ-وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ(31)

جیسا نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں کا طریقہ گزرا ہے اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا۔

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ (32)

اور اے میری قوم! میں تم پر پکارے جانے کے دن کا خوف کرتا ہوں۔

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَۚ-مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍۚ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ(33)

جس دن تم پیٹھ دے کر بھاگو گے۔ اللہ سے تمہیں کوئی بچانے والا نہیں ہے اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں ۔

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖؕ-حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًاؕ-كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُﰳﭕ (34)

اور بیشک اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم ان کے لائے ہوئے پر شک ہی میں رہے یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا توتم نے کہا: اب اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا، اللہ یونہی اسے گمراہ کرتا ہے جو حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا ہو۔

الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْؕ-كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ(35)

وہ جو اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی ایسی دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں جو انہیں ملی ہو، یہ بات اللہ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک کس قدر سخت بیزاری کی ہے۔ اللہ ہرمتکبر سرکش کے دل پراسی طرح مہر لگا دیتا ہے۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ (36)

اور فرعون نے کہا: اے ہامان !میرے لیے اونچا محل بنا شاید میں راستوں تک پہنچ جاؤں ۔

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًاؕ-وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِؕ-وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ (37)

آسمان کے راستوں تک تو موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے اور یونہی فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام خوبصورت بنادیا گیا اور وہ راستے سے روکا گیا اور فرعون کا داؤ ہلاکت میں ہی تھا۔

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ (38)

اور ایمان والے نے کہا: اے میری قوم!میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاؤں۔

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ٘-وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ(39)

اے میری قوم!یہ دنیا کی زندگی تو تھوڑا سا سامان ہی ہے اور بیشک آخرت ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَاۚ-وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ(40)

جو برا کام کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی اور جو اچھا کام کرے مرد ہوخواہ عورت اوروہ ہو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بے حساب رزق پائیں گے۔

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِﭤٜ (41)

اور اے میری قوم مجھے کیا ہوا کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلارہے ہو۔

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ٘-وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ(42)

تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں ، اور میں تمہیں عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں ۔

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ(43)

آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو اس کو بلانا کہیں کام کا نہیں، دنیا میں، نہ آخرت میں اور یہ کہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے اور یہ کہ حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں۔

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْؕ-وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ(44)

تو جلد ہی تم وہ یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں ، اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے۔

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ (45)

تو اللہ نے اسے ان کے مکر کی برائیوں سے بچالیا اور فرعونیوں کو برے عذاب نے آ گھیرا۔

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّاۚ-وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ- اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ(46)

آ گ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، (حکم ہوگا) فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو۔

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ(47)

اور جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑے بنتے تھے: ہم تمہارے تابع تھے تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ کم کرو گے؟

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤۙ-اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ(48)

وہ بڑے بننے والے کہیں گے: ہم سب آگ میں ہیں بیشک اللہ بندوں میں فیصلہ فرماچکا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ(49)

اور جو آگ میں ہیں وہ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے ، آپ اپنے رب سے دعا کردیں کہ وہ ہم پر ایک دن کچھ عذاب (یا) عذاب کا ایک دن ہلکا کردے۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِؕ-قَالُوْا بَلٰىؕ-قَالُوْا فَادْعُوْاۚ-وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ (50)

داروغہ فرشتے کہیں گے ،کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں نہ لاتے تھے؟ کافر کہیں گے، کیوں نہیں ، فرشتے کہیں گے، توتم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا نہیں مگر بھٹکتے پھرنے کو۔

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ (51)

بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں مدد کریں گے اوراس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(52)

جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے بُرا گھر ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ (53)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو رہنمائی عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث کیا۔

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ(54)

عقلمندوں کی ہدایت اور نصیحت کیلئے۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ(55)

تو تم صبر کرو، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْۙ-اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِۚ-فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(56)

بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں میں کسی ایسی دلیل کے بغیرجھگڑا کرتے ہیں جو انہیں ملی ہو ،ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہوس جس تک یہ پہنچ نہیں پائیں گے تو تم اللہ کی پناہ مانگو بیشک وہی سنتا دیکھتا ہے۔

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(57)

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ ﳔ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُؕ-قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ(58)

اور اندھا اوردیکھنے والا برابر نہیں اور نہ وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور بدکار(برابر ہیں ) ۔ تم بہت کم نصیحت مانتے ہو۔

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(59)

بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن بہت لوگ ایمان نہیں لاتے۔

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ (60)

اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کرجہنم میں جائیں گے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ(61)

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں آرام پاؤ اور دن بنایا آنکھیں کھولتا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل والا ہے لیکن بہت آدمی شکر نہیں کرتے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍۘ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ(62)

وہی اللہ ہے تمہارا رب، ہر شے کا خالق ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ،تو کہاں اوندھے جاتے ہو۔

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ(63)

یونہی اوندھے ہوتے ہیں وہ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِؕ-ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ۚۖ-فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ(64)

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کوٹھہرنے کی جگہ بنایا اور آسمان کوچھت اور تمہاری صورتیں بنائیں تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں روزی دیں ۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب۔ تووہ اللہ بڑی برکت والا ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَؕ-اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(65)

وہی زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اس کی عبادت کرو،خالص اسی کے بندے ہوکر،تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ٘-وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(66)

تم فرماؤ، مجھے منع کیا گیا ہے کہ ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے روشن دلیلیں آئی ہیں اور مجھے حکم ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًاۚ-وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(67)

وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا پھرپانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں بچے کی صورت میں نکالتا ہے پھر(تمہیں باقی رکھتا ہے) تاکہ اپنی جوانی کو پہنچو پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے اور اس لیے کہ تم ایک مقررہ وعدہ تک پہنچو اور اس لیے کہ سمجھو۔

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُۚ-فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ (68)

وہی ہے کہ زندگی دیتا ہے اور مارتا ہے پھر جب کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا جبھی وہ ہوجاتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِؕ-اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ ﳝ (69)

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں ۔

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا ﱡ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ (70)

وہ جنہوں نے کتاب کو اور اسے جھٹلایاجو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا، تووہ عنقریب جان جائیں گے۔

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُؕ-یُسْحَبُوْنَۙ (71)

جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی،وہ گھسیٹے جائیں گے۔

فِی الْحَمِیْمِ ﳔ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ (72)

کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں دہکائے جائیں گے۔

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ (73)

پھر ان سے فرمایا جائے گا کہاں گئے وہ جنہیں تم شریک بناتے تھے۔

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْــٴًـاؕ-كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ(74)

اللہ کے مقابل، کہیں گے وہ تو ہم سے گم گئے بلکہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے کافروں کو۔

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ (75)

یہ اس کا بدلہ ہے جو تم زمین میں باطل پر خوش ہوتے تھے اور اس کا بدلہ ہے جو تم اِتراتے تھے۔

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ(76)

جاؤ جہنم کے دروازوں میں، اس میں ہمیشہ رہنا ہے، تو مغروروں کا کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّۚ-فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ(77)

تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، تو اگر ہم تمہیں اس (عذاب )کا کچھ حصہ دکھادیں جس کی ہم انہیں وعید سنا رہے ہیں یا تمہیں (پہلے ہی )وفات دیں بہرحال انہیں ہماری ہی طرف پھرنا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَؕ-وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ (78)

اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کے احوال تم سے بیان فرمائے اور کسی کے احوال تم سے نہ بیان فرمائے اور کسی رسول کیلئے ممکن نہیں کہ اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی نشانی لے آئے پھر جب اللہ کا حکم آئے گاتو سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور باطل والوں کو وہاں خسارہ ہوگا۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ (79)

اللہ ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے کہ کسی پر تم سواری کرواور کسی کا گوشت کھاؤ۔

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَﭤ(80)

اور تمہارے لیے ان میں کتنے ہی فائدے ہیں اور اس لیے کہ تم ان کی پیٹھ پر اپنے دل کی مرادوں کو پہنچو اور ان پراور کشتیوں پر سوار ہوتے ہو۔

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ ﳓ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ(81)

اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو تم اللہ کی کون سی نشانی کا انکار کرو گے۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(82)

کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا تو دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے تعداد میں زیادہ اور قوت اور زمین میں نشانیوں کے اعتبار سے زیادہ قوی تھے تو ان کے کیا کام آیا جو انہوں نے کمایا؟۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(83)

تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس (دنیا کا) علم تھا اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے۔

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ(84)

پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا توبولے ،ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور جن چیزوں کو ہم اللہ کا شریک بناتے تھے ان کے منکر ہوئے۔

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ-سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖۚ-وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ (85)

تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے۔