IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 41

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

حٰمٓۚ (1)

حم،

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ (2)

۔ (یہ قرآن) بہت مہربان، نہایت رحم فرمانے والے کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ (3)

یہ عربی قرآن ایک کتاب ہے جس کی آیتیں جاننے والوں کیلئے تفصیل سے بیان کی گئیں ہیں ۔

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًاۚ-فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ(4)

خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والاتو ان میں سے اکثر نے منہ پھیرلیا تو وہ سنتے ہی نہیں ہیں ۔

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَٝ (5)

اورانہوں نے کہا:ہمارے دل اُس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ ہے تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کررہے ہیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُؕ-وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ (6)

تم فرماؤ : میں تمہارے جیسا ایک انسان ہی ہوں، میری طرف یہ وحی بھیجی جاتی ہے کہ (اے لوگو!) تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو اس کی طرف سیدھے رہو اور اس سے معافی مانگو اور مشرکوں کیلئے خرابی ہے۔

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ(7)

وہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ (8)

بیشک ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کیلئے بے انتہا ثواب ہے۔

قُلْ اَىٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًاؕ-ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ (9)

تم فرماؤ: کیا تم اس (اللہ ) کے ساتھ کفر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور تم اس کیلئے شریک ٹھہراتے ہو ۔وہ سارے جہانوں کا رب ہے۔

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍؕ-سَوَآءً لِّلسَّآىٕلِیْنَ(10)

اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑرکھ دئیے اور اس میں برکت رکھی اور اس میں بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں (یہ سب) چاردنوں میں (ہوا۔) سوال کرنے والوں کے لئے درست جواب ہے۔

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًاؕ-قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآىٕعِیْنَ(11)

پھر اس نے آسمان کی طرف قصد فرمایا اور آسمان دھواں تھا تواللہ نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں خوشی یا ناخوشی سے آجاؤ۔دونوں نے عرض کی: ہم خوشی کے ساتھ حاضر ہوئے۔

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَاؕ-وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ ﳓ وَ حِفْظًاؕ-ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ(12)

تواللہ نے انہیں دو دن میں سات آسمان بنادیااور ہر آسمان میں اس کے کام کے احکام بھیج دیئے اور ہم نے سب سے نیچے والے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور حفاظت کے لیے ۔یہ اس کا مقرر کیا ہوا ہے جو غالب ، علم والا ہے۔

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَﭤ(13)

پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرماؤ کہ میں تمہیں ایک ایسی کڑ ک سے ڈراتا ہوں جیسی کڑک عاد اور ثمود پر آئی تھی۔

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓىٕكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ(14)

جب ان کے آگے اور ان کے پیچھے رسول ان کے پاس آئے (اور کہا) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے کہا:اگرہمارا رب چاہتا تو فرشتو ں کواتارتا تو جس کے ساتھ تمہیں بھیجاگیا ہے ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں ۔

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةًؕ-اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةًؕ-وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ(15)

تو وہ جو عاد تھے انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیااور انہوں نے کہا:ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ اور کیا انہوں نے اس بات کو نہ دیکھا کہ وہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے۔

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ(16)

تو ہم نے ان پر(ان کے) منحوس دنوں میں ایک تیزآندھی بھیجی تاکہ دنیا کی زندگی میں ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں اور بیشک آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی۔

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ (17)

اور وہ جو ثمود تھے تو ہم نے ان کی رہنمائی کی تو انہوں نے ہدایت کی بجائے اندھے پن کو پسند کیا تو ان کے اعمال کے سبب انہیں ذلت کے عذاب کی کڑ ک نے آ لیا۔

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ (18)

اور ہم نے انہیں بچالیا جو ایمان لائے اور ڈرتے تھے۔

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ(19)

اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے پہلوں کو روکا جائے گا حتّٰی کہ بعد والے ان سے آملیں ۔

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(20)

یہاں تک کہ جب وہ (سب) آگ کے پاس آجا ئیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں سب ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَاؕ-قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(21)

اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ وہ کہیں گی: ہمیں اس اللہ نے بولنے کی قوت بخشی جس نے ہر چیز کوبولنے کی طاقت دی ہے اور اس نے تمہیں پہلی مرتبہ بنایا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰـكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ(22)

اور تم اس بات سے نہیں چھپ سکتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا۔

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ(23)

اور یہ تمہارا وہ گمان تھا جو تم نے اپنے رب پر کیا اسی گمان نے تمہیں ہلاک کردیا تو اب نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگئے۔

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْۚ-وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ(24)

پھر اگر وہ (آگ پر) صبر کریں تو آگ ان کا ٹھکانہ ہے اوراگر وہ اللہ کو راضی کرنا چاہیں گے تو وہ ان میں سے نہیں ہوں گے جن سے اللہ راضی ہے۔

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِۚ-اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ (25)

اور ہم نے کافروں کیلئے کچھ ساتھی مقرر کردئیے توان ساتھیوں نے کافروں کی نظر میں ان کے اگلے اور ان کے پچھلے (اعمال) کو خوبصورت بنا دیا اور ان پر بات ثابت ہو چکی ہے (یہ) جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں میں (شامل) ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں ۔ بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ(26)

اور کافروں نے کہا:اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں فضول شوروغل مچاؤ تاکہ تم غالب آجاؤ۔

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًاۙ-وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(27)

تو بیشک ضرور ہم کافروں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور بیشک ہم انہیں ان کے بُرے اعمال کا بدلہ دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُۚ-لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِؕ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ(28)

یہ اللہ کے دشمنوں کا بدلہ آ گ ہے۔ ان کیلئے اس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے (یہ) اس بات کی سزا ہے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ(29)

اور کافر (جہنم میں جاکر) کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں کے وہ دونوں (گروہ) دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تاکہ (آج) ہم انہیں اپنے پاؤں کے نیچے (روند) ڈالیں تاکہ وہ (جہنم میں ) سب سے نیچے والوں میں سے ہوجائیں ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(30)

بیشک جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَﭤ(31)

ہم دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں تمہارے دوست ہیں اور تمہارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لئے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو۔

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ (32)

بخشنے والے، مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(33)

اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے کہ بیشک میں مسلمان ہوں۔

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(34)

اور اچھائی اور برائی برابرنہیں ہوسکتی۔ برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو تو تمہارے اور جس شخص کے درمیان دشمنی ہوگی وہ اس وقت ایسا ہوجائے گا کہ جیسے وہ گہرا دوست ہے۔

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(35)

اور یہ دولت صبرکرنے والوں کو ہی ملتی ہے اوریہ دولت بڑے نصیب والے کو ہی ملتی ہے۔

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(36)

اور اگرتجھے شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بیشک وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُؕ-لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ(37)

اوررات اور دن اور سورج اور چاندسب اس کی نشانیوں میں سے ہیں ۔نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیااگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْــٴَـمُوْنَ۩ (38)

تو اگر یہ تکبر کریں تو جو تمہارے رب کے پاس ہیں وہ رات اور دن اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْؕ-اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰىؕ-اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(39)

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تو زمین کو بے قدر پڑی ہوئی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تولہلہانے لگتی ہے اور بڑھ جاتی ہے۔ بیشک جس نے اس کو زندہ کیا وہ ضرور مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بیشک وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَاؕ-اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْۙ-اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(40)

بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں سیدھی راہ سے ہٹتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں تو کیا جسے آ گ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت میں امان سے آئے گا۔ تم جو چاہو کرتے رہو،بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْۚ-وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ (41)

بیشک جنہوں نے ذکر کا انکار کیا جب وہ ان کے پاس آیا (ان کیلئے خرابی ہے) اور بیشک وہ عزت والی کتاب ہے۔

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖؕ-تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ(42)

باطل اس کے سامنے اور اس کے پیچھے (کسی طرف) سے بھی اس کے پاس نہیں آسکتا۔ (وہ قرآن) اس کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے جو حکمت والا، تعریف کے لائق ہے۔

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ(43)

۔ (اے حبیب!) آپ کو وہی بات کہی جاتی ہے جو تم سے پہلے رسولوں سے کہی گئی تھی۔ بیشک تمہارا رب بخشش والا اور دردناک عذاب والا ہے۔

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗؕ-ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّؕ-قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌؕ-وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًىؕ-اُولٰٓىٕكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ (44)

اور اگر ہم اسے عربی کے علاوہ کسی اورزبان کا قرآن کردیتے تو کفارضرور کہتے: اس کی آیتیں کیوں نہ واضح کی گئیں؟ کیا کتاب عجمی ہے اور نبی عربی ہے؟ تم فرماؤ: وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور وہ ان پر اندھا پن ہے ۔گویا انہیں دور کی جگہ سے پکارا جارہا ہے۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِؕ-وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْؕ-وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ(45)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے رب کی طرف سے بات پہلے نہ گزر چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک وہ ضرور قرآن کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں ۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَاؕ-وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ(46)

جو نیکی کرتا ہے وہ اپنی ذات کیلئے ہی کرتا ہے اور جو برائی کرتا ہے تو اپنے خلاف ہی کرتا ہے اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِؕ-وَ مَا تَخْرُ جُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖؕ-وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْۙ-قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَۙ-مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ (47)

قیامت کے علم کا حوالہ اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ بچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے اور جس دن وہ انہیں ندا فرمائے گا: میرے شریک کہاں ہیں ؟ تو کہیں گے: ہم تجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں ۔

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ(48)

اور جن کو وہ پہلے پوجتے تھے وہ ان سے غائب ہوگئے اور وہ سمجھ گئے کہ ان کے لئے کہیں بھاگنے کی جگہ نہیں ۔

لَا یَسْــٴَـمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ٘-وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَــٴُـوْسٌ قَنُوْطٌ(49)

آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اُکتاتا اور اگراسے کوئی برائی پہنچے تو بہت ناامید ،بڑا مایوس ہوجاتا ہے۔

وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْۙ-وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىٕمَةًۙ-وَّ لَىٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰىۚ-فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا٘-وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ(50)

اوراگر ہم اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی اپنی رحمت کا مزہ چکھائیں تو ضرورکہے گا: یہ تو میرا حق ہے اور میرے گمان میں قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی بھلائی ہی ہے تو ضرور ہم کافروں کو ان کے اعمال کی خبر دیں گے اور ضرور ضرورانہیں سخت عذاب چکھائیں گے۔

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖۚ-وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ(51)

اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو (لمبی)چوڑی دعا(مانگنے) والابن جاتا ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ(52)

تم فرماؤ: بھلا دیکھو کہ اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو پھر تم اس کے منکربنو تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضدو مخالفت میں ہے؟

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّؕ-اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(53)

ابھی ہم انہیں آسمان و زمین کی وسعتوں میں اور خود ان کی ذاتوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان کیلئے بالکل واضح ہو جائے گاکہ بیشک وہ ہی حق ہے اورکیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں ؟

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْؕ-اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ (54)

سن لو! بیشک یہ کافر اپنے رب سے ملنے کے متعلق شک میں ہیں ۔ خبردار!وہ ہر چیز کوگھیرے ہوئے ہے۔