Surah Ash Shura Ayat 26 (42:26)
The Consultation · Juz 25 · Makki
وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورایمان والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے زیادہ عطا فرماتا ہے اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور دعا قبول فرماتا ہے اُن کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور انھیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و یستجیب الذین امنوا و عملوا الصلحت: اورایمان والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کی دعا قبول فرماتا ہے۔} ار شاد فرمایا کہ اللہ تعالی ان لوگوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے جو ایمان لائیں اور اچھے اعمال کریں اور اپنے فضل سے لوگوں کی طلب سے بڑھ کر انہیں عطا فرماتا ہے اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے۔( مدارک الشوری تحت الایۃ: ۲۶ ص۱۰۸۸) دعا قبول نہ ہونے کا ایک سبب: معلوم ہوا کہ مقبول بندوں کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اچھے اعمال دعا کی قبولیت میں بہت معاون ہیں ۔اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو اچھے اعمال کرنے کی بجائے ہر وقت برے اعمال کرنے میں مصروف رہتے ہیں اس کے باوجود ان کی زبانیں اس شکوہ سے تر نظر اتی ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوتیانہیں چاہئے کہ اگر دعا قبول کروانی ہے تو برے اعمال چھوڑ کر نیک اعمال کرنے میں مصروف ہوجائیں ان شاء اللہ ان کی دعاوں کی قبولیت بھی ظاہر ہو گی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ایک شخص طویل سفرکرےاس کے بال الجھے اور کپڑے گرد میں اٹے ہوئے ہوں وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اوراے میرے رب!اے میرے رب!کہے اور اس کا کھانا حرام سے اور پینا حرام سے اور پہننا حرام سے اورپرورش پائی حرام سے تو اس کی دعا کہاں قبول ہو گی۔(مسلم کتاب الزکاۃ باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتہا ص۵۰۶ الحدیث: ۶۵(۱۰۱۵)) کسی نے حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃاللہ تعالی علیہ سے دریافت کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالی سے دعائیں کرتے ہیں لیکن وہ قبول نہیں ہوتیں اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تمہیں جس کام کا حکم دیا ہے تم وہ نہیں کرتے ۔( مدارک الشوری تحت الایۃ: ۲۶ ص۱۰۸۸)