IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 43

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

حٰمٓۚۛ (1)

حم۔

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ (2)

روشن کتاب کی قسم۔

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ (3)

ہم نے اسے عربی قرآن اتاراتا کہ تم سمجھو۔

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌﭤ(4)

اور بیشک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں یقینا بلندی والا، حکمت والا ہے۔

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ(5)

تو کیا ہم تم سے قرآن کا نزول اس لئے روک دیں کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو؟۔

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ(6)

اور ہم نے کتنے ہی نبی پہلے لوگوں میں بھیجے۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ(7)

اور ان کے پاس جو نبی آیاوہ اس کا مذاق ہی اڑاتے تھے۔

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ(8)

تو ہم نے اِن سے زیادہ قوت والوں کو ہلاک کردیا اور پہلے لوگوں کا حال گزر چکا ہے۔

وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ (9)

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ؟تو ضرور کہیں گے: انہیں عزت والے، علم والے نے بنایا۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ (10)

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے بنائے تاکہ تم راہ پاؤ۔

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍۚ-فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًاۚ-كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ(11)

اور وہ جس نے ایک اندازے سے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر کوزندہ فرمادیا۔ یونہی تم نکالے جاؤ گے۔

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ (12)

اور جس نے تمام جوڑوں کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں کی سواریاں بنائیں ۔

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ (13)

تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر سیدھے ہو کر بیٹھو پھر جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاؤ تواپنے رب کا احسان یاد کرو اور یوں کہو: پاک ہے وہ جس نے اس سواری کو ہمارے قابو میں کردیا اور ہم اسے قابوکرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ(14)

اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں ۔

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًاؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ (15)

اور کافروں نے اللہ کیلئے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا (اولاد) قراردیا۔ بیشک آدمی کھلا ناشکرا ہے۔

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ(16)

یا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں لیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ خاص کیا؟

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ(17)

اور جب ان میں کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمٰن کو متصف کیا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں بھرا رہتا ہے۔

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ(18)

اور کیا وہ جس کی زیور میں پرورش کی جاتی ہے اور وہ بحث میں صاف بات کرنے والی بھی نہیں ہوتی۔

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىٕكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًاؕ-اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْؕ-سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْــٴَـلُوْنَ(19)

اور انہوں نے فرشتوں کو عورتیں ٹھہرایا جو کہ رحمٰن کے بندے ہیں ۔کیا یہ کفار ان کے بناتے وقت موجودتھے؟اب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے جواب طلب ہوگا۔

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْؕ-مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍۗ-اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَﭤ(20)

اورانہوں نے کہا: اگر رحمٰن چاہتا توہم ان (فرشتوں ) کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں درحقیقت اس کا کچھ علم ہی نہیں ۔ وہ صرف جھوٹ بول رہے ہیں۔

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ(21)

یاکیا اس سے پہلے ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ؟

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ(22)

بلکہ انہوں نے کہا:ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کے نقشِ قدم پر ہی راہ پانے والے ہیں ۔

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤۙ-اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ(23)

اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تووہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کے نقش ِقدم کی ہی پیروی کرنے والے ہیں ۔

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْؕ-قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ(24)

نبی نے فرمایا: کیا اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہتر دین لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ انہوں نے کہا:جس کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ ٜ (25)

تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو دیکھو جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ (26)

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا: میں تمہارے معبودو ں سے بیزار ہوں۔

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ(27)

مگر وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو ضرور وہ جلد مجھے راستہ دکھائے گا۔

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(28)

اورابراہیم نے اس کلمہ کو اپنی نسل میں باقی رہنے والا کلمہ بنادیا تاکہ وہ رجوع کریں۔

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ(29)

بلکہ میں نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دئیے یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ(30)

اور جب ان کے پاس حق آیاتوکہنے لگے :یہ جادو ہے اور بیشک ہم اس کے منکر ہیں ۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ(31)

اور کہنے لگے: ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پریہ قرآن کیوں نہ اتارا گیا؟۔

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَؕ-نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّاؕ-وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(32)

کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان ان کی روزی (بھی) ہم نے ہی تقسیم کی ہے اور ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر کئی درجے بلندکیا ہے تاکہ ان میں ایک دوسرے کو اپنا خادم بنائے اور تمہارے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کررہے ہیں۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ (33)

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ (کافروں کی) ایک جماعت ہوجائیں گے تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں کے لیے ان کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے جن پر وہ چڑھتے۔

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِـٴُـوْنَۙ (34)

اور ان کے گھروں کے لیے (چاندی کے) دروازے اور تخت بنادیتے جن پر وہ تکیہ لگاتے۔

وَ زُخْرُفًاؕ-وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ (35)

اور(یہ چیزیں ان کیلئے)سونا(بھی بنادیتے) اوریہ جو کچھ ہے سب دنیاوی زندگی ہی کا سامان ہے اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ(36)

اور جو رحمٰن کے ذکر سے منہ پھیرے توہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی رہتاہے۔

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(37)

اور بیشک وہ شیاطین ان کو راستے سے روکتے ہیں اوروہ یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ(38)

یہاں تک کہ جب وہ کافر ہمارے پاس آئے گا تو(اپنے ساتھی شیطان سے )کہے گا: اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کے برابر دوری ہوجائے تو (تُو) کتنا ہی برا ساتھی ہے۔

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ(39)

اور آج ہرگز تمہیں یہ چیزنفع نہیں دے گی کہ تم سب عذاب میں شریک ہوجبکہ تم نے ظلم کیا۔

اَفَاَنْتَ تُسْمِــعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(40)

تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے یا اندھوں کو راہ دکھاؤ گے اور انہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں؟۔

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ (41)

تو اگر ہم تمہیں لے جائیں تو ان سے ہم ضرور بدلہ لیں گے۔

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ(42)

یا ہم تمہیں دکھادیں جس کا انہیں ہم نے وعدہ دیا ہے تو ہم ان پر بڑی قدرت والے ہیں ۔

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَۚ-اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(43)

تو اسے مضبوطی سے تھامے رکھو جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے بیشک تم سیدھی راہ پر ہو۔

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَۚ-وَ سَوْفَ تُسْــٴَـلُوْنَ(44)

اور(اے حبیب!) بیشک یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کیلئے شرف وبزرگی ہے اور (اے لوگو!) عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔

وَ سْــٴَـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ (45)

اورجو ہم نے تم سے پہلے اپنے رسول بھیجے ان سے پوچھو کہ کیا ہم نے رحمٰن کے سوا کچھ اور معبود مقرر کئے ہیں جن کی عبادت کی جائے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(46)

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو موسیٰ نے فرمایا: بیشک میں اس کا رسول ہوں جو سارے جہان کا مالک ہے۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ(47)

پھر جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لایا توجبھی وہ ان پر ہنسنے لگے۔

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا٘-وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(48)

اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے وہ اپنی مثل (پہلی نشانی) سے بڑی ہی ہوتی اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا تاکہ وہ بازآجائیں ۔

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَۚ-اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ(49)

اور انہوں نے کہا: اے جادوکے علم والے ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اُس عہد کے سبب جو اس نے تم سے کیا ہے ۔بیشک ہم ہدایت پر آجائیں گے۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ(50)

پھر جب ہم نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی تواسی وقت انہوں نے عہد توڑدیا۔

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْۚ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَﭤ(51)

اور فرعون نے اپنی قوم میں اعلان کرکے کہا: اے میری قوم!کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں ہے اوریہ نہریں جومیرے نیچے بہتی ہیں ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ ﳔ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ(52)

یا میں اس سے بہتر ہوں جو معمولی سا آدمی ہے اور صاف طریقے سے باتیں کرتا معلوم نہیں ہوتا۔

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ(53)

۔ (اگر یہ رسول ہے)تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ ڈالے گئے؟ یا اس کے ساتھ قطار بنا کرفرشتے آتے؟

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(54)

توفرعون نے اپنی قوم کوبیوقوف بنالیا تو وہ اس کے کہنے پر چل پڑے بیشک وہ نافرمان لوگ تھے۔

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ (55)

پھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا توہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ (56)

تو ہم نے انہیں اگلی داستان کردیا اور بعد والوں کیلئے مثال بنادیا۔

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ(57)

اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو جبھی تمہاری قوم اس سے ہنسنے لگتی ہے۔

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَؕ-مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًاؕ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ(58)

اور کہتے ہیں : کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ (عیسیٰ؟) انہوں نے یہ مثال تم سے صرف جھگڑا کرنے کیلئے بیان کی ہے،بلکہ وہ جھگڑنے والے لوگ ہیں ۔

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَﭤ(59)

عیسیٰ تونہیں ہے مگر ایک بندہ جس پر ہم نے احسان فرمایاہے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک عجیب نمونہ بنایا۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓىٕكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ(60)

اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں تمہارے بدلے فرشتے بسادیتے۔

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(61)

اور بیشک عیسیٰ ضرورقیامت کی ایک خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میری پیروی کرنا۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُۚ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(62)

اور ہرگز شیطان تمہیں نہ روکے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ(63)

اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا تواس نے فرمایا: میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیاہوں اور میں اس لئے (آیا ہوں ) تاکہ میں تم سے بعض وہ باتیں بیان کردوں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(64)

بیشک اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے تو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْۚ-فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ(65)

پھر وہ گروہ آپس میں مختلف ہوگئے تو ظالموں کیلئے ایک درد ناک دن کے عذاب کی خرابی ہے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(66)

وہ قیامت ہی کا انتظار کررہے ہیں کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ (67)

اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ (68)

۔(ان سے فرمایا جائے گا) اے میرے بندو! آج نہ تم پر خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ (69)

وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردارتھے۔

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ(70)

تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہوجائیں اور تمہیں خوش کیا جائے گا۔

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍۚ-وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُۚ-وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ (71)

ان پر سونے کی تھالیوں اور جاموں کے دَور ہوں گے اور جنت میں وہ تمام چیزیں ہوں گی جن کی ان کے دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھوں کو لذت ملے گی اور تم اس میں ہمیشہ رہوگے۔

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(72)

اور یہی وہ جنت ہے جس کا تمہارے اعمال کے صدقے تمہیں وارث بنایا گیا ہے۔

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ(73)

تمہارے لیے اس میں کثرت سے پھل ہیں جن میں سے تم کھاتے رہو گے۔

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ (74)

بیشک مجرم جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ (75)

وہ کبھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰـكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ(76)

اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی ظالم تھے۔

وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَؕ-قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ(77)

اور وہ پکاریں گے: اے مالک! تیرا رب ہمارا کام تمام کردے۔وہ داروغہ فرمائے گا: تمہیں تو ٹھہرناہے۔

لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ(78)

بیشک ہم تمہارے پاس حق لائے مگر تم میں اکثر حق کو ناپسند کرنے والے تھے۔

اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ (79)

کیا انہوں نے کام پکا کرلیا ہے؟تو ہم بھی (اپنا کام) پکا کرنے والے ہیں ۔

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْؕ-بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ(80)

کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی آہستہ بات اور ان کی خفیہ مشاورت نہیں سنتے؟ ہاں ، کیوں نہیں ؟ اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں ۔

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ﳓ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ(81)

تم فرماؤ: (ایک ناممکن بات کو فرض کرکے کہتا ہوں کہ) اگر رحمٰن کے کوئی بیٹاہوتا تو سب سے پہلے میں (اس کی) عبادت کرنے والا ہوتا۔

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ(82)

آسمانوں اور زمین کا رب ، عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جوکافر بیان کرتے ہیں ۔

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ(83)

تو تم انہیں چھوڑدو کہ بیہودہ باتیں کریں اور کھیلیں یہا ں تک کہ اپنے اس دن کو پائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ(84)

اور وہی آسمان والوں کامعبود ہے اور زمین والوں کامعبود ہے اور وہی حکمت والا، علم والا ہے۔

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَاۚ-وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(85)

اور وہ (اللہ ) بڑی برکت والا ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہی ہے اور قیامت کا علم اسی کے پاس ہے اور تمہیں اس کی طرف پھرناہے۔

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(86)

اورکفار جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں (شفاعت کا اختیار انہیں ہے) جو حق کی گواہی دیں اور علم رکھیں۔

وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ (87)

اور اگر تم ان سے پوچھو :انہیں کس نے پیدا کیا ؟تو ضرور کہیں گے: ’’ اللہ نے‘‘ تو کہاں اوندھے جاتے ہیں ؟

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَﭥ(88)

رسول کے اس کہنے کی قسم کہ اے میرے رب!یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌؕ-فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ (89)

تو ان سے درگزر کرو اور فرماؤ: بس سلام ہے توعنقریب جان جائیں گے۔