Surah Al Jasia Ayat 22 (45:22)
The Crouching · Juz 25 · Makki
وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ بنایا اورتاکہ ہر جان کواس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ بنایا اور اس لیے کہ ہر جان اپنے کئے کا بدلہ پائے اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔
Tafseer (Urdu)
{و خلق الله السموت و الارض بالحق: اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ بنایا۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ بامقصد بنایا تاکہ یہ تخلیق اللہ تعالی کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرے اورتاکہ ہر جان کواس کی نیکی اور بدی کا بدلہ دیا جائے اور ان پرثواب کی کمی یا عذاب کی زیادتی کے ساتھ ظلم نہیں ہوگا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس عالم کی پیدائش سے عدل اور رحمت کا اظہار کرنامقصود ہے اور یہ پوری طرح قیامت ہی میں ہوسکتا ہے کہ اہل حق اور اہل باطل میں امتیاز کامل ہو مخلص مومن جنت کے درجات میں ہوں اور نافرمان کافر جہنم کے درکات میں ہوں ۔(جلالین الجاثیۃ تحت الایۃ: ۲۲ ص۴۱۴ روح البیان الجاثیۃ تحت الایۃ: ۲۲ ۸ / ۴۴۷ خازن الجاثیۃ تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۱۲۰ ملتقطا) یاد رہے کہ قیامت کے دن بعض مجرموں کو معافی دے دینا اور اطاعت گزاروں کو ان کے عمل سے زیادہ ثواب عطا فرما دینا اللہ تعالی کا رحم و کرم ہے جبکہ بعض لوگوں کے اعمال ضبط ہوجانا ان کے اپنے قصور کی وجہ سے ہوگا نہ کہ یہ ان پر اللہ تعالی کاظلم ہو گا کیونکہ اللہ تعالی ظلم کرنے سے پاک ہے۔