IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 46

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

حٰمٓۚ (1)

حم۔

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ(2)

کتاب کا نازل فرمانا اللہ کی طرف سے ہے جو عزت والا، حکمت والاہے۔

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ(3)

ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب حق کے ساتھ ہی اور ایک مقررہ مدت تک (کیلئے)بنایا اور کافر اس چیز سے منہ پھیرے ہیں جس سے انہیں ڈرایا گیا ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِؕ-اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(4)

تم فرماؤ: بھلا بتاؤ تو کہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ،مجھے دکھاؤکہ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایاہے یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا کچھ بچا کھچا علم ہی لے آؤ اگر تم سچے ہو۔

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىٕهِمْ غٰفِلُوْنَ(5)

اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کی بجائے ان بتوں کی عبادت کرے جو قیامت تک اس کی نہ سنیں گے اور وہ ان کی پوجا سے بے خبر ہیں۔

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ(6)

اور جب لوگوں کا حشر ہوگاتو وہ بت ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوجائیں گے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْۙ-هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌﭤ(7)

اور جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کے بارے میں کہتے ہیں : یہ کھلا جادو ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِؕ-كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْؕ-وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(8)

بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اس(نبی) نے خود ہی قرآن بنالیا ہے ۔ تم فرماؤ: اگر میں نے اسے خود ہی بنایا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرے لئے کسی چیز کے مالک نہیں ہو ۔وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہواور میرے اور تمہارے درمیان وہ کافی گواہ ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْؕ-اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(9)

تم فرماؤ: میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیاہوگا؟ میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں تو صرف صاف ڈر سنانے والا ہوں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ (10)

تم فرماؤ: بھلا دیکھو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم اس کا انکار کرو اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکاہے تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِؕ-وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ(11)

اور کافروں نے مسلمانوں کے متعلق کہا:اگر اس ( اسلام)میں کچھ بھلائی ہو تو یہ مسلمان اس کی طرف ہم سے سبقت نہ لے جاتے اور جب ان کہنے والوں کو اس قرآن سے ہدایت نہ ملی تو اب کہیں گے کہ یہ ایک پرانا گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةًؕ-وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ﳓ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ (12)

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی اور یہ(قرآن) عربی زبان میں ہوتے ہوئے تصدیق کرنے والی ایک کتاب ہے تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکوں کیلئے بشارت ہو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ (13)

بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔

اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(14)

وہ جنت والے ہیں ، ہمیشہ اس میں رہیں گے ، انہیں ان کے اعمال کابدلہ دیا جائے گا۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًاؕ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًاؕ-وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةًۙ-قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ ﱂاِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(15)

اور ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، ا س کی ماں نے اسے پیٹ میں مشقت سے رکھا اور مشقت سے اس کوجنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی کامل قوت کی عمر کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیاتو اس نے عرض کی: اے میرے رب!مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پراور میرے ماں باپ پر فرمائی ہے اور میں وہ نیک کام کروں جس سے تو راضی ہوجائے اور میرے لیے میری اولاد میں نیکی رکھ، میں نے تیری طرف رجوع کیااور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِؕ-وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ(16)

یہی وہ لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم قبول فرمائیں گے اور ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائیں گے، یہ لوگ جنت والوں میں سے ہوں گے۔یہ سچا وعدہ ہے جو اِن سے کیا جاتا تھا۔

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَ جَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْۚ-وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ ﳓ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۚۖ-فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(17)

اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا: تمہارے لئے اُف( تم سے دل بیزار ہوگیاہے)کیا مجھے ڈراتے ہو کہ میں نکالاجاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے کئی زمانے گزر چکے ہیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں ، (اور بیٹے سے کہتے ہیں ) تیری خرابی ہو، ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو وہ کہتا ہے یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ(18)

یہ وہ لوگ ہیں جن پر بات ثابت ہوچکی ہے(یہ)جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں میں (شامل) ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْاۚ-وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(19)

اور سب کے لیے ان کے اعمال کے سبب درجات ہیں اور تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِؕ-اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ-فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ (20)

اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے (تو کہا جائے گا) تم اپنے حصے کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے تو آج تمہیں ذلت کے عذاب کابدلہ دیا جائے گا کیونکہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍؕ-اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(21)

اورعاد کے ہم قوم کو یاد کرو جب اس نے اپنی قوم کو سرزمینِ احقاف میں ڈرایا اور بیشک اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی ڈر سنانے والے گزر چکے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈرہے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَاۚ-فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(22)

انہوں نے کہا: کیا تم اس لیے آئے ہوکہ ہمیں ہمارے معبودوں سے پھیر دو، اگر تم سچے ہوتو ہم پر لے آؤ جس کی تم ہمیں وعیدیں سناتے ہو۔

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ ﳲ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ(23)

فرمایا:علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اورمیں تمہیں اسی چیز کی تبلیغ کرتا ہوں جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے لیکن میں تمہیں ایک جاہل قوم سمجھتا ہوں۔

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْۙ-قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَاؕ-بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖؕ-رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ (24)

پھر جب انہوں نے اسے (یعنی عذاب کو) بادل کی صورت میں پھیلا ہوا اپنی وادیوں کی طرف آتا ہوا دیکھا توکہنے لگے: یہ ہمیں بارش دینے والابادل ہے۔(کہا گیا کہ، نہیں ) بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم نے جلدی مچائی تھی، یہ ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ(25)

یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے تو صبح کو ان کی ایسی حالت تھی کہ ان کے خالی مکان ہی نظر آرہے تھے۔ ہم مجرموں کوایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْـٕدَةً ﳲ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْـٕدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَۙ-بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ (26)

اور بیشک ہم نے ان کو ان چیزوں میں قدرت دی تھی جن میں (اے اہلِ مکہ) تمہیں قدرت نہیں دی اور ان کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے دل ان کے کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اورانہیں اس عذاب نے گھیرلیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(27)

اور(اے اہلِ مکہ!) بیشک ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیوں کو ہلاک کردیا اور بار بار نشانیاں لائے تاکہ وہ باز آجائیں ۔

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةًؕ-بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْۚ-وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(28)

تو جن بتوں کو قرب حاصل کرنے کیلئے اللہ کے سوامعبود بنارکھا تھا انہوں نے ان کافروں کی مدد کیوں نہیں کی بلکہ وہ ان سے گم گئے اور یہ ان کا بہتان تھا اور جووہ گھڑتے رہتے تھے۔

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَۚ-فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْاۚ-فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ(29)

اور(اے حبیب!یاد کرو) جب ہم نے تمہاری طرف جنوں کی ایک جماعت پھیری جو کان لگا کر قرآن سنتی تھی پھر جب وہ نبی کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو کہنے لگے: خاموش رہو (اور سنو) پھر جب تلاوت ختم ہوگئی تووہ اپنی قوم کی طرف ڈراتے ہوئے پلٹ گئے۔

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ(30)

کہنے لگے: اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے وہ پہلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہے ، حق اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ(31)

اے ہماری قوم! اللہ کے منادی کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ وہ تمہارے گناہوں میں سے بخش دے گااور تمہیں دردناک عذاب سے بچالے گا۔

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(32)

اور جو اللہ کے بلانے والے کی بات نہ مانے تووہ زمین میں قابو سے نکل کر جانے والا نہیں ہے اور اللہ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں ہے۔وہ کھلی گمراہی میں ہیں ۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰىؕ-بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(33)

کیا انہوں نے نہیں دیکھاکہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں نہ تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کرے ؟کیوں نہیں ، بیشک وہ ہر شے پر قادرہے۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِؕ-اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّؕ-قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَاؕ-قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ(34)

اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے (توکہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ؟ کہیں گے: کیوں نہیں ، ہمارے رب کی قسم، اللہ فرمائے گا: تو اپنے کفر کے بدلے عذاب چکھو۔

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْؕ-كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَۙ-لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍؕ-بَلٰغٌۚ-فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ (35)ٛ

تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کافروں کے لیے جلدی نہ کرو۔ جس دن وہ دیکھیں گے اسے جس کی وعید انہیں سنائی جاتی ہے (توسمجھیں گے کہ)گویا وہ دنیا میں دن کی صرف ایک گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ یہ ایک تبلیغ ہے تو نافرمان لوگ ہی ہلاک کئے جاتے ہیں ۔