IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 47

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ(1)

جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال برباد کردئیے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْۙ-كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ(2)

اور جوایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے تواللہ نے ان کی برائیاں مٹا دیں اور ان کی حالتوں کی اصلاح فرمائی۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ(3)

یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو کارہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے ۔اللہ ان کے حالات لوگوں سے یونہی بیان فرماتا ہے۔

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَۙ-فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا ﲰذٰلِكَ ﳍوَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰـكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍؕ-وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ(4)

تو جب کافروں سے تمہارا سامناہوتو گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم انہیں خوب قتل کرلو تو (قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ دو پھر اس کے بعدچاہے احسان کرکے چھوڑ دو یافدیہ لے لو ،یہاں تک کہ لڑائی اپنے بوجھ رکھ دے۔ (حکم) یہی ہے اوراگر اللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لے لیتا مگر (تمہیں قتال کا حکم دیا) تاکہ تم میں سے ایک کو دوسرے کے ذریعے جانچے اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہیں فرمائے گا۔

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ (5)

عنقریب اللہ انہیں راستہ دکھائے گا اور ان کے حال کی اصلاح فرمائے گا۔

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ(6)

اور انہیں جنت میں داخل فرمائے گا، اللہ نے انہیں اس کی پہچان کروادی تھی۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ(7)

اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ(8)

اور جنہوں نے کفر کیا تو ان کیلئے تباہی و بربادی ہے اور اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیئے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ(9)

یہ (سزا)اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ کے نازل کئے ہوئے کو ناپسند کیا تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردئیے۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ٘-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا(10)

تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیاتو دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیسا انجام ہوا؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈالی اور اِن کافروں کے لیے بھی پہلوں کے انجام جیسی بہت سی سزائیں ہیں ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ (11)

یہ اس لیے کہ اللہ مسلمانوں کا مددگارہے اور کافروں کا کوئی مددگارنہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ(12)

بیشک اللہ ایمان لانے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کو ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں اور کافر فائدہ اٹھارہے ہیں اور ایسے کھاتے ہیں جیسے جانور کھاتے ہیں اور آگ ان کا ٹھکانہ ہے۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَۚ-اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ(13)

اور کتنے ہی ایسے شہر ہیں جوتمہارے اِس شہر سے زیادہ قوت والے تھے جس نے تمہیں باہر نکال دیا، ہم نے انہیں ہلاک کردیاتو ان کیلئے کوئی مددگار نہیں ۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ(14)

تو جو شخص اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوکیا وہ اُس جیسا ہوگا جس کے برے عمل اس کیلئے خوبصورت بنادئیے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍۚ-وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗۚ-وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ ﳛ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّىؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْؕ-كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ(15)

اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں خراب نہ ہونے والے پانی کی نہریں ہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلے اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کیلئے سراسرلذت ہے اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل اوران کے رب کی طرف سے مغفرت ہے ۔کیا (یہ جنتی) اس کے برابر ہوسکتا ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والاہے اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا تووہ ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا؟.

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِـعُ اِلَیْكَۚ-حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا- اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ(16)

اور لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاکر سنتے ہیں یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو علم والوں سے کہتے ہیں : ابھی انہوں نے کیا کہا؟یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور وہ اپنی خواہشوں کے تابع ہوگئے۔

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ(17)

اور جنہوں نے ہدایت پائی تواللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمادی اور انہیں ان کی پرہیزگاری عطا فرمائی۔

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةًۚ-فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَاۚ-فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ(18)

تو وہ قیامت ہی کاانتظار کررہے ہیں کہ ان پر اچانک آجائے تو بیشک اس کی (کئی)علامتیں تو آہی چکی ہیں پھر جب قیامت آجائے گی توان کا نصیحت ماننا انہیں کہاں مفید ہوگا؟

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ (19)

تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اے حبیب!اپنے خاص غلاموں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو اور (اے لوگو!)اللہ دن کے وقت تمہارے پھرنے اور رات کو تمہارے آرام کرنے کو جانتا ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌۚ-فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُۙ-رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِؕ-فَاَوْلٰى لَهُمْۚ (20)

اور مسلمان کہتے ہیں : کوئی سورت کیوں نہیں اتاری گئی؟ پھر جب کوئی واضح سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں جہاد کا حکم دیا جاتا ہے تو تم ان لوگوں کو دیکھو گے جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ تمہاری طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے وہ دیکھتا ہے جس پر موت چھائی ہوئی ہوتو ان کے لئے بہتر تھا۔

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ- فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ- فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ (21)

فرمانبرداری کرنا اور اچھی بات کہنا ،پھر جب (جہاد کا)حکم قطعی ہوگیا تو اگر اللہ سے سچے رہتے تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا۔

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(22)

تو کیا تم اس بات کے قریب ہو کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(23)

یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی تو اللہ نے انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں اندھی کردیں ۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(24)

تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟ بلکہ دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَىۙ-الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْؕ-وَ اَمْلٰى لَهُمْ(25)

بیشک وہ لوگ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے اس کے بعد کہ ان کیلئے ہدایت بالکل واضح ہوچکی تھی شیطان نے انہیں فریب دیا اور انہیں (لمبی لمبی) امیدیں دلائیں ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِۚۖ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ(26)

یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ کے نازل کردہ کو ناپسند کرنے والوں سے کہا: کسی کام میں ہم تمہاری اطاعت کریں گے اور اللہ ان کی چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ(27)

تو ان کاکیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کے منہ اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں مارتے ہوئے ان کی روح قبض کریں گے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ (28)

یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ کو ناراض کرنے والی بات کی پیروی کی اور انہوں نے اللہ کی خوشنودی کو پسند نہ کیا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردئیے۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِ جَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ(29)

کیا جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اللہ ان کے چھپے ہوئے بغض و کینے کو ظاہر نہ فرمائے گا۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْؕ-وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ(30)

اور اگر ہم چاہتے تو تمہیں وہ منافقین دکھادیتے تو تم انہیں ان کی صورت سے پہچان لیتے اور ضرور تم انہیں گفتگو کے انداز میں پہچان لو گے اور اللہ تمہارے اعمال جانتا ہے۔

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَۙ-وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ(31)

اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبرکرنے والوں کودیکھ لیں اور تمہاری خبریں آزمالیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰىۙ-لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْــٴًـاؕ-وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ(32)

بیشک جنہوں نے کفرکیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعدکہ ان کیلئے ہدایت بالکل ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور بہت جلد اللہ ان کے اعمال برباد کردے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ(33)

اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل نہ کرو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ(34)

بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ انہیں ہرگزنہیں بخشے گا۔

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ ﳓ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ﳓ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ(35)

تو تم سستی نہ کرو اور خود صلح کی طرف دعوت نہ دو اور تم ہی غالب ہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا۔

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْــٴَـلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ(36)

دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تمہیں تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا۔

اِنْ یَّسْــٴَـلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِ جْ اَضْغَانَكُمْ(37)

اگر اللہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور زیادہ طلب کرے توتم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کے کھوٹ کوظاہر کردے گا۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُۚ-وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُۚ-وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْۙ-ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ (38)

ہاں ہاں یہ تم ہوجو بلائے جاتے ہو تاکہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان سے بخل کرتا ہے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ہو اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل دے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔