Surah Al Fath Ayat 14 (48:14)
The Victory · Juz 26 · Madani
وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے ، جس کی چاہے مغفرت فرمائے اور جسے چاہے عذاب دے اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لله ملك السموت و الارض: اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے۔} بیعت کرنے والوں اوربرے گمان کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد یہا ں ارشاد فرمایا جا رہاہے کہ اسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی کے لئے ہے وہ ان میں جیسے چاہے تصرف فرمائے اور جس کی یہ شان ہے وہ اپنی مشیت کے مطابق جس کی چاہے مغفرت فرمائے اور جسے چاہے عذاب دے اور (اس کی مغفرت و رحمت عذاب کے مقابلے میں زیادہ ہے جیسا کہ ایت کے اخر میں یہ ارشاد فرمانے سے معلوم ہوا کہ) اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔( خازن الفتح تحت الایۃ: ۱۴ ۴ / ۱۴۸ملتقطا) مغفرت اور عذاب سے متعلق 4 باتیں : یہاں مغفرت اور عذاب سے متعلق4 باتیں یاد رکھیں : (1)… گناہگار مسلمان کی مغفرت فرما دینا اللہ تعالی کا فضل ہے اوراسے عذاب دینا اس کا عدل ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالی کے فضل اور عدل پر اعتراض کر کے ا س میں دخل اندازی کرے ۔ (2)…اللہ تعالی کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے اور عذاب کے مقابلے میں مغفرت زیادہ ہے لیکن ا س کی وجہ سے نیک اعمال چھوڑ دینا اور نافرمانیوں میں مبتلا ہو جانا بہت بڑی نادانی ہے ۔ (3)… اللہ تعالی اور ا س کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر صحیح طریقے سے ایمان لانا اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا اللہ تعالی کی مغفرت حاصل ہونے کے اہم ترین ذرائع اور اسباب ہیں انہیں اختیار کرنے کے بعد اس کے فضل کی امید رکھنی چاہئے اور ا س کے عدل سے ڈرنا چاہئے ۔ (4)…جو لوگ کافر ہیں اور کسی صورت اپنے کفر سے توبہ کر کے ایمان لانے پر تیار نہیں اور وہ اسی حال میں مر جاتے ہیں یونہی جو شخص زندگی میں مسلمان رہا لیکن اس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہوا ان کی مغفرت کی کوئی صورت ہی نہیں ہے اور یہ لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں ہی جائیں گے۔ لہذا کافرتو دین اسلام میں داخل ہو جائیں اور ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کرے۔