Surah Al Fath Ayat 2 (48:2)
The Victory · Juz 26 · Madani
لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتاکہ اللہ تمہارے صدقے تمہارے اپنوں کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور اپنا انعام تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھادے۔
Tafseer (Urdu)
{لیغفر لك الله ما تقدم من ذنبك و ما تاخر: تاکہ اللہ تمہارے صدقے تمہارے اپنوں کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے۔} اس سے پہلی ایت میں فرمایا گیا کہ’’ہم نے اپ کے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا‘‘اور اس ایت سے فتح کا فیصلہ فرما دینے کی علت بیان کی جا رہی ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم نے اپ کے لئے روشن فتح کا فیصلہ فرما دیا تاکہ اللہ تعالی اپ کے صدقے اپ کے اپنوں کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور اپ کی بدولت امت کی مغفرت فرمائے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ نے ایت مبارکہ کے اس حصے سے متعلق فتاوی رضویہ میں بہت تفصیل سے کلام فرمایاہے اس میں سے ایک جز کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’سورہ فتح کی اس ایت کریمہ میں موجود لفظ ’’لک‘‘ میں لام تعلیل کا ہے اور ’’ما تقدم من ذنبك‘‘ سے مراد’’تمہارے اگلوں کے گناہ‘‘ ہے اور اگلوں سے میری مراد سیدنا عبداللہ اورسیدتنا امنہ رضی اللہ تعالی عنہماسے لے کر نسب کریم کی انتہاء تک تمام ابائے کرام اور امہات طیبات مراد ہیںالبتہ ان میں سے جو انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہیں جیسے حضرت ادم شیثنوحخلیل اور اسماعیل علیہم الصلوۃ والسلام وہ اس سے مستثنی ہیں اور ’’ما تاخر‘‘ سے مراد’’تمہارے پچھلے‘‘ یعنی ’’قیامت تک تمہارے اہل بیت اور امت مرحومہ ‘‘مراد ہےتو ایت کریمہ کا حاصل یہ ہوا کہ ہم نے تمہارے لیے فتح مبین فرمائی تاکہ اللہ تعالی تمہارے سبب سے بخش دے تم سے تعلق رکھنے والے سب اگلوں پچھلوں کے گناہ۔( فتاوی رضویہ ۲۹ / ۴۰۱ ملخصا) نوٹ:اس ایت مبارکہ سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاوی رضویہ جلد29 صفحہ 394 تا 401 کا مطالعہ فرمائیں ۔ {و یتم نعمته علیك: اور اپنا انعام تم پر تمام کردے۔} ایت کے اس حصے اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے فتح کا جو فیصلہ فرمایا اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی دنیوی اور دینی نعمتیں اپ پر تمام کردے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اپ کو رسالت کی تبلیغ اور ریاست میں اصول و قوانین قائم کرنے میں سیدھی راہ دکھادے اور چوتھی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اپ کی زبردست مدد فرمائے اور دشمنوں پر کامل غلبہ عطا فرمائے۔(بیضاوی الفتح تحت الایۃ: ۲-۳ ۵ / ۲۰۰ خازن الفتح تحت الایۃ: ۲-۳ ۴ / ۱۴۵ ملتقطا)