Surah Al Hujurat Ayat 5 (49:5)
The Rooms · Juz 26 · Madani
وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم ان کے پاس خود تشریف لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتے تو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لو انهم صبروا: اور اگر وہ صبر کرتے۔} اس ایت میں ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ انہیں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوپکارنے کی بجائے صبر اور انتظارکرنا چاہئے تھا یہاں تک کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خود ہی مقدس حجرے سے باہر نکل کر ان کے پاس تشریف لے اتے اوراس کے بعدیہ لوگ اپنی عرض پیش کرتے۔ اگر وہ اپنے اوپر لازم اس ادب کو بجالاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا اور جن سے یہ بے ادبی سرزد ہوئی ہے اگر وہ توبہ کریں تو اللہ تعالی انہیں بخشنے والا اور ان پر مہربانی فرمانے والا ہے۔( خازن الحجرات تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۱۶۶ روح البیان الحجرات تحت الایۃ: ۵ ۹ / ۶۸ ملخصا) علماء اوراسا تذہ کی بارگاہ میں حاضری کا ایک ادب: اس ایت سے اشارۃ معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالی کی بارگاہ کے مقرب بندوں اور باعمل علماء کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو ان کے استانے کا دروازہ بجا کر جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ انتظار کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنے معمول کے مطابق استانے سے باہر تشریف لے ائیں ۔ہمارے بزرگان دین کا یہی طرز عمل ہوا کرتا تھاچنانچہ بلند پایہ عالم حضر ت ابو عبید رحمۃاللہ تعالی علیہ فرمایاکرتے تھے : میں نے کبھی بھی کسی استادکے دروازہ پردستک نہیں دی بلکہ میں ان کا انتظار کرتا رہتا اور جب وہ خود تشریف لاتے تو میں ان سے استفادہ حاصل کرتا۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما حضر ت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے قران مجید کی تعلیم حاصل کرنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تو دروازے کے پاس کھڑے ہو جاتے اور ان کا دروازہ نہ کھٹکھٹاتے (بلکہ خاموشی سے ان کاانتظار کرتے) یہاں تک کہ وہ اپنے معمول کے مطابق باہر تشریف لے اتے ۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا یہ طرز عمل بہت برا معلوم ہوا تو اپ نے ان سے فرمایا:اپ نے دروازہ کیوں نہیں بجایا(تاکہ میں فوراباہراجاتااوراپ کوانتظارکی زحمت نہ اٹھانی پڑتی)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے جواب دیا:عالم اپنی قوم میں اس طرح ہوتاہے جس طرح نبی اپنی امت میں ہوتاہے (یعنی عالم نبی کا وارث ہوتا ہے) اور (چونکہ) اللہ تعالی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے ’’ و لو انهم صبروا حتى تخرج الیهم لكان خیرا لهم‘‘ (اس لئے میں نے بھی دروازہ بجانے کی بجائے اپ کے خود ہی تشریف لے انے کا انتظار کیا) ۔ علامہ الوسی رحمۃاللہ تعالی علیہ اپناطرزعمل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : میں نے یہ واقعہ بچپن میں پڑھا تھا اس کے بعد میں عمربھراسی کے مطابق اپنے استادوں کے ساتھ معاملہ کرتارہا۔( روح المعانی الحجرات تحت الایۃ: ۵ ۱۳ / ۴۱۲) ایت ’’و لو انهم صبروا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے مزید دو باتیں معلوم ہوئیں (1)…اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دربار شریف کے اداب اللہ تعالی نے بنائے اور اسی نے سکھائے ہیں یاد رہے کہ یہ اداب صرف انسانوں پر ہی جاری نہیں بلکہ جنوں انسانوں اور فرشتوں سب پر جاری ہیں اور یہ اداب کسی خاص وقت تک کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہیں ۔ (2)… اکابرین کی بارگاہ کا ادب کرنابندے کو بلند درجات تک پہنچاتا ہے اور دنیا واخرت کی سعادتوں سے نوازتا ہے۔