Surah Al Maidah Ayat 55 (5:55)
The Table Spread · Juz 6 · Madani
اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتمہارے دوست صرف اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ انما ولیكم الله و رسوله و الذین امنوا: تمہارے دوست صرف اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں۔} گزشتہ ایات میں ان لوگوں کا بیان ہوا جن کے ساتھ دلی دوستیاں لگانا حرام ہے ان کا ذکر فرمانے کے بعد اب ان کا بیان فرمایا جن کے ساتھ موالات واجب ہے۔ اس ایت مبارکہ کے متعلق حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہماری قوم نے ہمیں چھوڑ دیا اور قسمیں کھالیں کہ وہ ہمارے پاس نہیں بیٹھا کریں گے اور دوری کی وجہ سے ہم اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اصحاب کی صحبت میں بھی نہیں بیٹھ سکتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالی اور اس کا رسول اور ایمان والے تمہارے دوست ہیں تو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ’’ اللہ تعالی کے رب ہونے پر اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نبی ہونے پر اور مومنین کے دوست ہونے پر ہم راضی ہیں۔(قرطبی المائدۃ تحت الایۃ: ۵۵ ۳ / ۱۳۱ الجزء السادس) ایت مبارکہ میں بیان کردہ حکم تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے سب ایک دوسرے کے دوست اور محب ہیں۔ {و هم ركعون: اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔} عربی گرامر کے اعتبار سے ایت مبارکہ کے اس جملے کے چار معنی بیان کئے گئے ہیں : (1)…پہلا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں جھکا ہوا ہونا مومنوں کی ایک مزید صفت ہے۔(جمل المائدۃ تحت الایۃ: ۵۵۲ / ۲۴۲) (2)…دوسرا معنی یہ ہے کہ مومنین نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کے دونوں کام خشوع اور تواضع کے ساتھ کرتے ہیں۔(ابو سعود المائدۃ تحت الایۃ: ۵۵ ۲ / ۵۹) (3)…تیسرا معنی یہ ہے کہ وہ تواضع اور عاجزی کے ساتھ زکوۃ دیتے ہیں۔(جمل المائدۃ تحت الایۃ: ۵۵ ۲ / ۲۴۲) (4)… چوتھا معنی یہ ہے کہ وہ حالت رکوع میں راہ خدا میں دیتے ہیں۔ پہلا معنی سب سے قوی اور چوتھا معنی سب سے کمزور ہے بلکہ امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے تفسیر کبیر میں اس کا بہت شدو مد سے رد کیا ہے اور اس کے بطلان پر بہت سے دلائل قائم کئے ہیں۔