Surah Al Maidah Ayat 87 (5:87)
The Table Spread · Juz 7 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ 87
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ قرار دوجنہیں اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والوحرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ لا تحرموا طیبت:پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ ٹھہراو۔} اس ایت مبارکہ کا شان نزول یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ایک جماعت سرورکائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا وعظ سن کر ایک روز حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں جمع ہوئی اور انہوں نے اپس میں ترک دنیا کا عہد کیا اور اس پر اتفاق کیا کہ وہ ٹاٹ پہنیں گے اور ہمیشہ دن میں روزے رکھیں گے اور ساری رات عبادت الہی میں گزارا کریں گے بستر پر نہ لیٹیں گے اور گوشت اور چکنائی نہ کھائیں گے اور عورتوں سے جدا رہیں گے نیز خوشبو نہ لگائیں گے ۔اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں اس ارادہ سے روک دیا گیا۔( تفسیر قرطبی المائدۃ تحت الایۃ: ۸۷ ۳ / ۱۵۶ الجزء السادس) اعمال میں اعتدال کا حکم: احادیث مبارکہ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اعتدال کا حکم فرمایا اور عبادت کرنے میں خود کو بہت زیادہ تکلیف میں ڈالنے سے منع فرمایا ۔ اس کے لئے درج ذیل 3 احادیث ملاحظہ فرمائیں۔ (1)… ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں ’’رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما تھےاس وقت حضرت حولاء بنت تویت رضی اللہ تعالی عنھا ان کے پاس سے گزریں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھانے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کی:’’یہ حولاء بنت تویت (رضی اللہ تعالی عنہا) ہیں لوگ کہتے ہیں کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات بھر نہیں سوتیں ! اتنا عمل کیا کرو جتنا اسانی سے کر سکو بخدا! اللہ تعالی نہیں اکتائے گا لیکن تم اکتا جاو گے۔( مسلم کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا باب فضیلۃ العمل الدائم من قیام اللیل وغیرہ ص۳۹۴ الحدیث: ۲۲۰(۷۸۵)) (2)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اس وقت مسجد کے دو ستونوں کے درمیان رسی تانی ہوئی تھی اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کیا ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یہ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنھا کی رسی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب ان پر تھکن یا سستی طاری ہوتی ہے تو اس رسی کو پکڑ لیتی ہیں۔ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اس رسی کو کھول دو تم میں سے ہر شخص اس وقت تک نماز پڑھے جب تک وہ اسانی سے نماز پڑھ سکے اور جب اس پر تھکن یا سستی طاری ہو تو وہ بیٹھ جایا کرے۔(مسلم کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا باب فضیلۃ العمل الدائم من قیام اللیل وغیرہ ص۳۹۴ الحدیث: ۲۱۹(۷۸۴)) (3)… حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’میں ہمیشہ روزے رکھتا تھا اورہر رات قران مجید کی تلاوت کرتا تھا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا تو اپ نے مجھے بلوایا میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا تواپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم ہمیشہ روزے رکھتے ہو اور ہر رات قران مجید پڑھتے ہو میں نے عرض کی: کیوں نہیں یا رسول اللہ ! لیکن میں نے اس عبادت سے صرف خیر کا ارادہ کیا ہے۔ سرکار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تمہارے لئے یہ کافی ہے کہ تم مہینے میں صرف تین دن روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے عرض کی:یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں ا س سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے تمہارے جسم کا تم پر حق ہے تم اللہ عزوجل کے نبی حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کے روزے رکھو کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ میں نے عرض کی :اے اللہ عزوجل کے پیارے نبی! حضرت داود علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے ارشاد فرمایا ’’ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ اور فرمایا ’’ہر ماہ میں ایک قران پاک ختم کیا کرو۔ میں نے عرض کی:یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: ’’ پھر بیس دن میں ایک قران پاک ختم کر لو۔ میں نے عرض کی: میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ارشاد فرمایا ’’ پھر دس دن میں ایک قران پاک ختم کر لو۔میں نے عرض کی: میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’ پھر سات دن میں قران پاک ختم کر لو اور اس سے زیادہ اپنے اپ کو مشقت میں نہ ڈالو کیونکہ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔( مسلم کتاب الصیام باب النہی عن صوم الدہر۔۔۔ الخ ص۵۸۵ الحدیث: ۱۸۲(۱۱۵۹)) حلال چیزوں کو ترک کرنے کاشرعی حکم : حلال چیزوں کو ترک کرنا جائز ہوتا ہے کہ ان کا کرنا کوئی فرض و واجب نہیں ہوتا لیکن جس طرح حرام کو گناہ و نافرمانی سمجھ کر ترک کیا جاتا ہے اس طرح حلال چیزوں کو ترک کرنے کی اجازت نہیں۔ نیز کسی حلال چیز کے متعلق بطور مبالغہ یہ کہنے کی اجازت نہیں کہ ہم نے اس کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔ صوفیاء کرام رحمۃاللہ تعالی علیہم سے جو بہت سی چیزوں کو ترک کرنے کے واقعات ملتے ہیں وہ بطور علاج ہیں یعنی جس طرح بیمار ادمی بہت سی غذاوں کو حلال سمجھنے کے باوجود اپنی صحت کی خاطر پرہیز کرتے ہوئے کئی چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اسی طرح صوفیاء کرام رحمۃاللہ تعالی علیہم نفس کے علاج کیلئے بعض حلال چیزوں کو حلال سمجھنے کے باوجود ترک کردیتے ہیں لیکن اس میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ حلال چیزوں کو ترک کرنے کی اجازت تو ہے لیکن یہ اجازت نہیں کہ ان کے ساتھ حرام جیسا سلوک کیا جائے۔ حلال چیزوں کو حرام قرار دینے کے بارے میں ایک اہم مسئلہ: اس ایت مبارکہ میں پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار دینے سے منع فرمایا اس سے ان لوگوں کو بھی عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ جو مقبولان بارگاہ الہی کی طرف منسوب ہر چیز پر حرام کے فتوے دینے پر لگے رہتے ہیں اور ہرچیز میں انہیں شرک ہی سوجھتاہے۔