IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 50

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

قٓ ۫ۚ-وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ (1)

ق، عزت والے قرآن کی قسم۔

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ (2)

بلکہ انہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا تو کافر کہنے لگے: یہ تو عجیب بات ہے۔

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًاۚ-ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ(3)

کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے (تو اس کے بعد پھر زندہ کئے جائیں گے) یہ پلٹنا دور ہے۔

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْۚ-وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ(4)

ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان سے گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ(5)

بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک ایسی بات میں ہیں جسے قرار نہیں۔

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ(6)

تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اسے کیسے بنایا اور سجایا اور اس میں کہیں کوئی شگاف نہیں ۔

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ (7)

اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں مضبوط پہاڑ ڈالے اور اس میں ہربارونق جوڑا اگایا۔

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ(8)

ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے بصیرت اور نصیحت کیلئے۔

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ (9)

اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا تو اس سے باغات اور کاٹا جانے والا اناج اُگایا۔

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ (10)

اور کھجور کے لمبے درخت (اگائے) جن کے گچھے اوپر نیچے تہہ لگے ہوئے ہیں ۔

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِۙ-وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًاؕ- كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ(11)

بندوں کی روزی کے لیے اور ہم نے اس سے مردہ شہرکو زندہ کیا۔ یونہی (قبروں سے تمہارا) نکلنا ہوگا۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ (12)

ان (کفارِ مکہ) سے پہلے نوح کی قوم اور رس (نامی کنویں ) والوں نے اور ثمودنے جھٹلایا۔

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ (13)

اور عاد اور فرعون نے اور لوط کے ہم قوم لوگوں نے۔

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍؕ-كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ(14)

اور جنگل والوں اور تبع کی قوم نے، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا۔

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِؕ-بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ (15)

تو کیا ہم پہلی بار بنانے کی وجہ سے تھک گئے؟ بلکہ وہ نئی پیدائش کے متعلق شبے میں ہیں۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ۚۖ-وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ(16)

اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ(17)

جب اس سے لینے والے دو فرشتے لیتے ہیں ،ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہوا ہے۔

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(18)

وہ زبان سے کوئی بات نہیں نکالتامگر یہ کہ ایک محافظ فرشتہ اس کے پاس تیار بیٹھاہوتا ہے۔

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ(19)

اور موت کی سختی حق کے ساتھ آگئی، یہ وہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ(20)

اور صُور میں پھونک ماری جائے گی ،یہ عذاب کی وعید کادن ہے۔

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىٕقٌ وَّ شَهِیْدٌ(21)

اور ہر جان یوں حاضر ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا۔

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ(22)

بیشک تو اس سے غفلت میں تھا تو ہم نے تجھ سے تیراپردہ اٹھادیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے۔

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌﭤ(23)

اور اس کاساتھی فرشتہ کہے گا:یہ ہے جو میرے پاس تیار موجود ہے۔

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ (24)

۔(حکم ہوگا) تم دونوں ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کوجہنم میں ڈال دو۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِﹰۙ (25)

جو بھلائی سے بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، شک کرنے والاہے۔

الَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ(26)

جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہرایا تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈال دو۔

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰـكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ(27)

اس کا ساتھی شیطان کہے گا: اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا تھا،ہاں یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ(28)

اللہ فرمائے گا: میرے پاس نہ جھگڑو ،میں پہلے ہی تمہاری طرف عذاب کی وعید بھیج چکا تھا۔

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ (29)

میرے ہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں ۔

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ(30)

جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے: کیا تو بھر گئی؟ وہ عرض کرے گی: کیاکچھ اور زیادہ ہے؟

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ(31)

اور جنت پرہیزگاروں کے قریب لائی جائے گی ، ان سے دور نہ ہوگی۔

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ (32)

۔(کہا جائے گا:) یہ ہے وہ (جنت) جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ،ہر رجوع کرنے والے، حفاظت کرنے والے کے لیے۔

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِﹰۙ (33)

جو رحمٰن سے بن دیکھے ڈرا اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ آیا۔

ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ(34)

۔ (ان سے فرمایا جائے گا) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ ،یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ(35)

ان کے لیے جنت میں وہ تمام چیزیں ہوں گی جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِؕ-هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ(36)

اور ان سے پہلے ہم نے کتنی قوموں کوہلاک فرمادیا، وہ گرفت میں ان سے زیادہ سخت تھیں تو انہوں نے شہروں میں کوشش کی کہ کیا کوئی بھاگنے کی جگہ ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ(37)

بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو یا کان لگائے اوروہ متوجہ ہو۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ﳓ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ(38)

اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا اور ہمیں کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی۔

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ (39)

تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ(40)

اور رات کے کچھ حصے میں اس کی تسبیح کرو اور نمازوں کے بعد۔

وَ اسْتَمِـعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ (41)

اور کان لگا کر سنو جس دن ایک قریب کی جگہ سے پکارنے والا پکارے گا۔

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ(42)

جس دن لوگ حق کے ساتھ ایک چیخ سنیں گے ، یہ (قبروں سے) باہر آنے کادن ہوگا۔

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ (43)

بیشک ہم زندگی دیتے ہیں اور ہم موت دیتے ہیں اور ہماری طرف ہی پھرنا ہے۔

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًاؕ-ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ(44)

۔ جس دن زمین ان پرسے پھٹ جائے گی تو وہ جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے ،یہ حشر ہم پر آسان ہے۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ۫- فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ (45)

ہم خوب جان رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں اور تم ان پر جبر کرنے والے نہیں ہوتو اس شخص کو قرآن سے نصیحت کرو جو میری دھمکی سے ڈرے۔