Surah 51
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ (1)
بکھیر کر اڑادینے والیوں کی قسم۔
فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ (2)
پھر بوجھ اٹھانے والیوں کی۔
فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ (3)
پھر آسانی سے چلنے والیوں کی۔
فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ (4)
پھر حکم کو تقسیم کرنے والیوں کی۔
اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ (5)
بیشک جس کی تمہیں وعید سنائی جا رہی ہے وہ ضرور سچ ہے۔
وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌﭤ(6)
اور بیشک بدلہ دیا جانا ضرور واقع ہونے والا ہے۔
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ (7)
راستوں والے آسمان کی قسم۔
اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ (8)
تم طرح طرح کی بات میں ہو۔
یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَﭤ(9)
اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جو اوندھا ہی کردیا گیا ہو۔
قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ (10)
جھوٹے اندازے لگانے والے مارے جائیں۔
الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ (11)
جو نشے میں بھولے ہوئے ہیں ۔
یَسْــٴَـلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِﭤ(12)
۔ پوچھتے ہیں کہ بدلے کا دن کب ہوگا؟
یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ(13)
۔ (یہ اس دن واقع ہوگا) جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے۔
ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْؕ-هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ(14)
اور (فرمایا جائے گا) اپنا عذاب چکھو، یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے۔
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ (15)
بیشک پرہیزگارلوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔
اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَﭤ(16)
اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے، بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرنے والے تھے۔
كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ(17)
وہ رات میں کم سویا کرتے تھے۔
وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(18)
اور رات کے آخری پہروں میں بخشش مانگتے تھے۔
وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ(19)
اور ان کے مالوں میں مانگنے والے اور محروم کا حق تھا۔
وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ (20)
اور زمین میں یقین والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔
وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ(21)
اور خود تمہاری ذاتوں میں ،تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ(22)
اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ (23)
تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم! بیشک یہ حق ہے ویسی ہی زبان میں جو تم بولتے ہو۔
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَﭥ(24)
اے حبیب!کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی۔
اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌۚ-قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ(25)
جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا: سلام، (ابراہیم نے) فرمایا، ’’سلام ‘‘اجنبی لوگ ہیں ۔
فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ (26)
پھر ابراہیم اپنے گھر والوں کی طرف گئے تو ایک موٹا تازہ بچھڑا لے آئے۔
فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ (27)
پھر اسے ان کے پاس رکھ دیا تو فرمایا: کیا تم کھاتے نہیں ؟
فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةًؕ-قَالُوْا لَا تَخَفْؕ-وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ(28)
تو اپنے دل میں ان سے خوف محسوس کیا، (فرشتوں نے) عرض کی: آپ نہ ڈریں اور انہوں نے اسے ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سنائی۔
فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ(29)
تو ابراہیم کی بیوی چلاتی ہوئی آئی پھر اپنے چہرے پر ہاتھ مارا اورکہا:کیا بوڑھی بانجھ عورت (بچہ جنے گی۔).
قَالُوْا كَذٰلِكِۙ-قَالَ رَبُّكِؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ(30)
فرشتوں نے کہا: تمہارے رب نے یونہی فرمایا ہے، بیشک وہی حکمت والا، علم والا ہے۔
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ(31)
ابراہیم نے فرمایا: تو اے بھیجے ہوئے فرشتو!پھر تمہارا کیا مقصد ہے؟
قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ (32)
انہوں نے کہا:بیشک ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ (33)
تاکہ ان پر گارے کے پتھر برسائیں ۔
مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ(34)
جن پر تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان لگائے ہوئے ہیں۔
فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ (35)
تو ہم نے اس شہر میں موجود ایمان والوں کو نکال لیا۔
فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ (36)
تو ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان پایا۔
وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَﭤ(37)
اور ہم نے اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی باقی رکھی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ(38)
اور موسیٰ میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے اسے روشن سند کے ساتھ فرعون کی طرف بھیجا۔
فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ(39)
اور وہ (فرعون) اپنے لشکر سمیت پھر گیا اور بولا: (موسیٰ تو) جادوگر ہے یا دیوانہ۔
فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌﭤ(40)
اور ہم نے فرعون اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ (خود کو) کو ملامت کررہا تھا۔
وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ (41)
اور قومِ عاد میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان پرخشک آندھی بھیجی۔
مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِﭤ(42)
وہ جس چیز پر گزرتی تھی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح کرچھوڑتی ۔
وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ(43)
اور ثمود میں ( نشانی ہے) جب ان سے فرمایا گیا: ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔
فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ(44)
تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں کڑک نے آلیا۔
فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ (45)
تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے۔
وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ (46)
اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک فرمایا، بیشک وہ فاسق لوگ تھے۔
وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ(47)
اور آسمان کو ہم نے (اپنی) قدرت سے بنایا اور بیشک ہم وسعت وقدرت والے ہیں ۔
وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ(48)
اور زمین کو ہم نے فرش بنایا تو ہم کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں۔
وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(49)
اور ہم نے ہر چیز کی دو قسمیں بنائیں تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔
فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِؕ-اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ (50)
اور اللہ کی طرف بھاگو بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لئے کھلم کھلاڈر سنانے والا ہوں ۔
وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَؕ-اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ (51)
اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہراؤ بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے کھلم کھلا ڈر سنانے والا ہوں ۔
كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ (52)
یونہی جب ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول تشریف لایا تو وہ یہی بولے کہ (یہ) جادوگر ہے یا دیوانہ۔
اَتَوَاصَوْا بِهٖۚ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ (53)
کیاانہوں نے ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کی تھی بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں ۔
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا اَنْتَ بِمَلُوْمٍ ﱭ(54)
تو اے حبیب!تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کوئی ملامت نہیں ۔
وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(55)
اور سمجھاؤ کہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ دیتا ہے۔
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(56)
اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔
مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(57)
میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں۔
اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ(58)
بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا، قدرت والا ہے۔
فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ(59)
تو بیشک ان ظالموں کے لیے عذاب کا ایک حصہ ہے جیسے ان کے ساتھیوں کے عذاب کا حصہ تھا تو یہ مجھ سے (عذاب مانگنے میں ) جلدی نہ کریں ۔
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ (60)
تو کافروں کیلئے ان کے اس دن سے خرابی ہے جس کی انہیں وعید سنائی جاتی ہے۔

