Surah 54
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ(1)
قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ(2)
اور اگر کفار کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیرلیتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ تو کوئی دائمی جادو ہے۔
وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ(3)
اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے اور ہر کام قرار پاچکا ہے۔
وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ (4)
اور بیشک ان کے پاس وہ خبریں آچکیں جن میں کافی ڈانٹ ڈپٹ تھی۔
حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ (5)
۔(یہ قرآن) انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت ہے تو (ایسوں کو) ڈر انے والے امور فائدہ نہیں دیتے۔
فَتَوَلَّ عَنْهُمْۘ- یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ (6)
تو تم ان سے منہ پھیرلو، جس دن پکارنے والا ایک سخت انجان بات کی طرف بلائے گا۔
خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ (7)
۔(تو)ان کی آنکھیں نیچے جھکی ہوئی ہوں گی ۔قبروں سے یوں نکلیں گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں ۔
مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِؕ- یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ(8)
اس بلانے والے کی طرف دوڑتے ہوئے کافر کہیں گے: یہ بڑاسخت دن ہے۔
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ(9)
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا کہا اور کہنے لگے: یہ پاگل ہے اور نوح کوجھڑکا گیا۔
فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ(10)
تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو تو (میرا) بدلہ لے۔
فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ ۖ (11)
تو ہم نے زور کے بہتے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دئیے ۔
وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ (12)
اور زمین کو چشمے کرکے بہا دیا تو پانی اس مقدار پرمل گیا جو مقدر تھی۔
وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ (13)
اور ہم نے نوح کو تختوں اور کیلوں والی (کشتی)پر سوار کیا ۔
تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَاۚ-جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ(14)
جوہماری نگاہوں کے سامنے بہہ رہی تھی (سب کچھ)اس ( نوح )کو جزا دینے کیلئے(ہوا) جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا۔
وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ(15)
اور ہم نے اس واقعہ کو نشانی بناچھوڑا تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(16)
تومیرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا؟
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ(17)
اور بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے / نصیحت لینے کیلئے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے / نصیحت لینے والا؟.
كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(18)
عاد نے جھٹلایا تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا؟
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ (19)
بیشک ہم نے ان پر ایسے دن میں ایک سخت آندھی بھیجی جس کی نحوست (ان پر) ہمیشہ کے لیے رہی۔
تَنْزِعُ النَّاسَۙ- كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ(20)
وہ آندھی لوگوں کو یوں اکھیڑ مارتی تھی گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے سوکھے تنے ہوں ۔
فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(21)
تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا؟
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ (22)
اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے / نصیحت لینے کیلئے آسان کردیا تو ہے کوئی یاد کرنے / نصیحت لینے والا؟.
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ(23)
ثمود نے ڈر سنانے والوں (رسولوں ) کو جھٹلایا۔
فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤۙ-اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ(24)
تو انہوں نے کہا:کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک آدمی کی تابعداری کریں جب تو ہم ضرور گمراہی اور دیوانگی میں ہیں ۔
ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ(25)
کیا ہم سب میں سے (صرف)اس پر وحی ڈالی گئی؟ بلکہ یہ بڑا جھوٹا ،متکبر ہے۔
سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ(26)
بہت جلد کل جان جائیں گے کہ کون بڑا جھوٹا،متکبر تھا۔
اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘ (27)
بیشک ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی کوبھیجنے والے ہیں تو (اے صا لح!)تم ان کا انتظار کرو اور صبر کرو۔
وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْۚ-كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ(28)
اور انہیں خبر دے دو کہ ان کے درمیان پانی تقسیم ہے ، ہر باری پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہے۔
فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ(29)
تو انہوں نے اپنے ساتھی کو پکارا: تو اس نے (اونٹنی کو)پکڑا پھر (اس کی) کونچیں کاٹ دیں ۔
فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(30)
تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا؟
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ(31)
بیشک ہم نے ان پر ایک زور دار چیخ بھیجی تو اسی وقت وہ باڑ بنانے والے شخص کی بچ جانے والی روندی ہوئی خشک گھاس کی طرح ہوگئے۔
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ(32)
اور بیشک ہم نے قرآن کویاد کرنے / نصیحت لینے کیلئے آسان کردیا تو ہے کوئی یاد کرنے / نصیحت لینے والا؟.
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ(33)
لوط کی قوم نے ڈر سنانے والوں (رسولوں ) کو جھٹلایا۔
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍؕ-نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ (34)
بیشک ہم نے ان پر ایک پتھراؤ بھیجا سوائے لو ط کے گھر والوں کے، ہم نے انہیں رات کے آخری پہر بچالیا۔
نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَاؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ(35)
اپنے پاس سے احسان فرماکر، ہم یونہی شکر کرنے والے کو صلہ دیتے ہیں ۔
وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ(36)
اور بیشک اس نے انہیں ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں نے ڈر کے فرامین میں شک کیا۔
وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(37)
انہوں نے اسے اس کے مہمانوں کے متعلق پھسلانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا (اورفرمایا)میرے عذاب اور میرے ڈر کے فرامین کا مزہ چکھو۔
وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ (38)
اور بیشک صبح سویرے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیا۔
فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(39)
تومیرے عذاب اور میرے ڈر کے فرمانوں کا مزہ چکھو۔
وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠ (40)
اور بیشک ہم نے قرآن کویاد کرنے /نصیحت لینے کیلئے آسان کردیا تو ہے کوئی یاد کرنے /نصیحت لینے والا؟.
وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ (41)
اور بیشک فرعونیوں کے پاس ڈر سنانے والے (رسول) آئے۔
كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ(42)
انہوں نے ہماری سب نشانیوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے ان پرایسی گرفت کی جیسی ایک عزت والے ، عظیم قدرت والے کی گرفت کی شان ہوتی ہے۔
اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓىٕكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ (43)
کیا تمہارے کافر اُن (پہلوں )سے بہتر ہیں یا کتابوں میں تمہارے لئے نجات لکھی ہوئی ہے؟
اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ(44)
یا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سب بدلہ لے لیں گے۔
سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ(45)
عنقریب سب بھگادیئے جائیں گے اور وہ پیٹھ پھیردیں گے۔
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ(46)
بلکہ ان کا وعدہ قیامت ہے اور قیامت سب سے زیادہ سخت اور سب سے زیادہ کڑوی ہے۔
اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍﭥ(47)
بیشک مجرم گمراہی اور دیوانگی میں ہیں۔
یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْؕ-ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ(48)
جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے ( فرمایا جائے گا)، دوزخ کا چھونا چکھو۔
اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ(49)
بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔
وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ(50)
اور ہمارا کام تو صرف ایک بات ہے جیسے پلک جھپکنا۔
وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ(51)
اور بیشک ہم نے تمہارے جیسے (بہت سے گروہ)ہلاک کردئیے تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔
وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ(52)
اور انہوں نے جو کچھ کیا وہ سب کتابوں میں موجودہے۔
وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ(53)
اور ہر چھوٹی اوربڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ (54)
بیشک پرہیزگار لوگ باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔
فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠ (55)
عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضورسچ کی مجلس میں ہوں گے۔

