Surah Al Mujadilah Ayat 3 (58:3)
The Pleading Woman · Juz 28 · Madani
وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاؕ-ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کا تدارک (تلافی ) کرناچاہیں تو ( اس کا کفارہ)میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرناہے یہ وہ ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بڑی بات کہہ چکے تو ان پر لازم ہے ایک بردہ آزاد کرنا قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین یظهرون من نسآىهم: اور وہ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہیں ۔} اس سے پہلی ایت میں ظہار کی مذمت بیان کی گئی اور اب یہاں سے ظہار کا شرعی حکم بیان کیا جا رہاہے چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اس ظہار کو توڑ دینا اوراس کی وجہ سے ہونے والی حرمت کو ختم کر دینا چاہیں تو ان پر ظہار کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے لہذا ان پر ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کریں یہ وہ حکم ہے جس کے ذریعے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے تاکہ تم دوبارہ ظہار نہ کرو اور اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرو اور یہ بات یاد رکھو کہ اللہ تعالی تمہارے کاموں سے خبردار ہے اور وہ تمہیں ان کی جزا دے گا لہذا اللہ تعالی نے تمہارے لئے شریعت کی جو حدود مقرر کی ہیں ان کی حفاظت کرو اور کسی حد کو نہ توڑو۔( مدارکالمجادلۃتحت الایۃ: ۳ ص۱۲۱۶ خازن المجادلۃ تحت الایۃ: ۳ ۴ / ۲۳۷ روح البیان المجادلۃ تحت الایۃ: ۳ ۹ / ۳۹۲ ملتقطا) ظہار کا کفارہ کب واجب ہے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :ظہار کرنے والا جماع کا ارادہ کرے تو کفارہ واجب ہے اور اگر یہ چاہے کہ وطی نہ کرے اور عورت اس پر حرام ہی رہے تو کفارہ واجب نہیں اور اگر ارادہ جماع تھا مگر زوجہ مر گئی تو واجب نہ رہا۔(بہار شریعت حصہ ہشتم کفارہ کا بیان ۲ / ۲۱۰) جب غلام پر قدرت ہے اگرچہ وہ خدمت کا غلام ہو تو کفارہ آزاد کرنے ہی سے ہو گا اور اگر غلام کی استطاعت نہ ہو خواہ ملتا نہیں یا اس کے پاس دام نہیں تو کفارہ میں پے در پے(یعنی مسلسل)دو مہینے کے روزے رکھے اور اگر اس کے پاس خدمت کا غلام ہے یا مدیون (یعنی مقروض)ہے اور دین(یعنی قرض)ادا کرنے کے لیے غلام کے سواکچھ نہیں تو ان صورتوں میں بھی روزے وغیرہ سے کفارہ ادا نہیں کرسکتا بلکہ غلام ہی آزاد کرنا ہوگا۔(بہار شریعت حصہ ہشتم کفارہ کا بیان ۲ / ۲۱۳) نوٹ:ظہار کے کفارے سے متعلق مزید مسائل کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت حصہ8سے ’’کفارہ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔