Surah Al Hashr Ayat 10 (59:10)
The Exile · Juz 28 · Madani
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ ٛ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاوران کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں اورہمارے ان بھائیوں کوبخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جو اُن کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بے شک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین جآءو من بعدهم: اوران کے بعد انے والے۔} یعنی مہاجرین اور انصار کے بعد انے والے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں اورہمارے ان بھائیوں کوبخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان رحمت والا ہے اور تو اپنی مہربانی اور رحم کے صدقے ہماری ا س دعا کو قبول فرما۔( روح البیان الحشر تحت الایۃ: ۱۰ ۹ / ۴۳۶-۴۳۷) یاد رہے کہ مہاجرین و انصار کے بعد انے والوں میں قیامت تک پیدا ہونے والے تمام مسلمان داخل ہیں اور ان سے پہلے ایمان لانے والوں میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم داخل ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے بغض رکھنے والے ایمان والوں کی اقسام سے خارج ہیں ـ: اس سے معلوم ہو اکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے بارے دل میں کینہ نہ رکھناایمان کی علامت اور ان کے بارے میں بغض سے بچنے کی دعا کرنا مسلمانوں کا طریقہ ہے ۔ صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ـ:جس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے بغض یا کدورت ہو اور وہ ان کے لیے دعائے رحمت و استغفار نہ کرے وہ مومنین کی اقسام سے خارج ہے کیونکہ یہاں مومنین کی تین قسمیں فرمائی گئیں ۔ مہاجرین انصاراور ان کے بعد والے جوان کے تابع ہوں اور ان کی طرف سے دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں تو جو صحابہ سے کدورت رکھے رافضی ہو یا خارجی وہ مسلمانوں کی ان تینوں قسموں سے خارج ہے۔( خزائن العرفان الحشر تحت الایۃ: ۱۰ ص۱۰۱۱) صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے بغض رکھنے کا نتیجہ: صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صحبت اختیار کرنے کے لئے منتخب فرمایا اور ان کی عظمت و شان کو قران مجید میں بیان فرمایالیکن افسوس! کچھ لوگ خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں اوران کے سینے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے بغض سے بھرے ہوئے ہیں انہیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے لئے استغفار کرنے کاحکم دیا گیا لیکن یہ انہیں گالیاں دیتے ہیں جیساکہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا : لوگوں کو حکم تو یہ دیا گیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کیلئے استغفار کریں اور کرتے یہ ہیں کہ انہیں گالیاں دیتے ہیں ۔( مسلم کتاب التفسیر ص۱۶۱۱ الحدیث: ۱۵(۳۰۲۲)) ایسے لوگوں کے لئے درج ذیل حدیث پاک میں بڑی عبرت ہے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ میرے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے متعلق اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑے۔( ترمذی ابواب المناقب باب فیمن سب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۵ / ۳۰۲ الحدیث : ۳۸۶۴ دار ابن کثیر بیروت) اللہ تعالی ایسے لوگوں کو ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے اور ان کے دلوں کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی عظمت و شان سے معمور فرمائےامین ۔ مسلمانوں سے بغض نہ رکھنے کے سبب جنت کی بشارت ملی: ایت پاک میں مذکور دعا سے یہ بھی معلوم ہواکہ ہمیں اپنے دل میں کسی بھی مسلمان کے بارے میں بغض اور کینہ نہیں رکھناچاہیے یہاں اسی سے متعلق ایک حدیث پاک ملاحظہ ہو چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ایک بارہم سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرتھے تواپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا:ابھی اہل جنت میں سے ایک ادمی تمہارے سامنے ائے گاتو انصارمیں سے ایک شخص ایا جس کی داڑھی سے وضوکاپانی ٹپک رہاتھااوروہ بائیں ہاتھ میں اپناجوتالٹکائے ہواتھا۔پھرجب دوسرادن ہواتو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا’’ابھی تمہارے سامنے اہل جنت میں سے ایک ادمی ائے گاچنانچہ وہی ادمی اپنی پہلے دن والی کیفیت کے مطابق ایا۔پھرجب تیسرادن ایاتوحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پھراسی طرح ارشاد فرمایا اور پھروہی ادمی ایا۔ جب رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے توحضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہما اس ادمی کے پیچھے گئے اورفرمایا:میرااپنے والد سے جھگڑاہوگیاہے اورمیں نے یہ قسم کھائی ہے کہ میں تین راتیں ان کے پاس نہیں جاؤں گالہذا اگراپ مناسب خیال کریں تو میری قسم کا وقت ختم ہونے تک مجھے اپنے پاس رہنے کی اجازت دے دیں ۔اس نے کہا:ٹھیک ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما نے بتایا کہ انہوں نے تین راتیں ا س کے ساتھ گزاریں اس دوران انہوں نے رات میں کسی بھی وقت اس ادمی کو اٹھتے نہیں دیکھاالبتہ اس کا حال یہ تھاکہ جب وہ اپنے بسترپرکروٹ بدلتاتواللہ تعالی کاذکرکرتااوراس کی عظمت وکبریائی بیان کرتایہاں تک کہ وہ صبح کی نمازکے لئے اٹھااورخوب اچھی طرح وضوکیا اورمیں نے اسے کلمہ خیرکہنے کے علاوہ کچھ کہتے نہیں سنا۔ جب تین راتیں گزر گئیں اورقریب تھاکہ میں اس کے عمل کوکم گمان کرتا تومیں نے کہا:اے اللہ کے بندے !بے شک میرے اورمیرے والد کے درمیان کوئی جھگڑااورناراضی نہیں ہے اورنہ ہی کوئی فراق اورجدائی ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوتمہارے بارے میں تین مجالس میں تین باریہ فرماتے سناہے کہ ابھی تمہارے سامنے اہل جنت میں سے ایک ادمی داخل ہوگااورتینوں بارتم ہی ائےچنانچہ میں نے ارادہ کیاکہ تمہارے پاس ٹھہرکر تمہارے عمل کودیکھوں ۔میں نے تمہیں کوئی بڑ اعمل کرتے نہیں پایا تو وہ کو نسا عمل ہے جس کی وجہ سے تم نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زبان اقدس سے یہ فضیلت پائی ۔اس نے کہا :میرا عمل وہی ہے جو ا پ نے دیکھا۔یہ بات سن کر میں واپس جانے کے لئے پلٹاتواس نے مجھے بلایااورکہا:عمل تووہی ہے جواپ نے دیکھ لیاہے البتہ میں اپنے دل میں کبھی مسلمان کے بارے میں کوئی کینہ نہیں رکھتااورجو خیروبرکت اللہ تعالی نے اسے عطا فرمائی ہے اس پرکبھی حسد نہیں کرتا۔یہ سن کرحضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما نے اس سے فرمایا:یہی وہعمل ہے جس نے تجھے جنت میں پہنچادیاہے اوریہی وہ عمل ہے جس کی ہم طاقت اوراستطاعت نہیں رکھتے ۔( سنن الکبری للنسائی کتاب عمل الیوم واللیلۃ ما یقول اذا انتبہ من منامہ ۶ / ۲۱۵ الحدیث: ۱۰۶۹۹) اللہ تعالی ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بغض اور کینہ رکھنے سے محفوظ فرمائےامین۔ ایت ’’و الذین جآءو من بعدهم‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے مزید تین باتیں معلوم ہوئیں (1)…ہر مسلمان کو چاہئے کہ صرف اپنے لئے دعا نہ کرے بلکہ اپنے بزرگوں کے لئے بھی دعا کیا کرے ۔ (2)… بزرگان دین خصوصا صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ تعالی عنہم کے عرس ختم نیاز اور فاتحہ اعلی چیزیں ہیں کہ ان میں ان بزرگوں کے لئے دعا ہے۔ (3)… مومن کی پہچان یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام اور اہل بیت رضی اللہ تعالی عنہم سے اچھی عقیدت رکھے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کرے ۔