Surah Al Hashr Ayat 8 (59:8)
The Exile · Juz 28 · Madani
لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان فقیر مہاجروں کے لیے جو اپنے گھروں اوراپنے مالوں سے نکالے گئے اس حال میں کہ اللہ کی طرف سے فضل اور رضا چاہتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، وہی لوگ سچے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{للفقرآء المهجرین الذین اخرجوا من دیارهم و اموالهم: ان فقیر مہاجروں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے ۔} یعنی مال غنیمت میں جیسا کہ اوپر ذکر کئے ہوئے لوگوں کا حق ہے ایسا ہی یہ مال ان فقیر مہاجروں کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اور ان کے گھروں اور مالوں پر کفار مکہ نے قبضہ کر لیا اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کا فضل یعنی اخرت کا ثواب اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اپنے جان و مال سے دین کی حمایت میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں وہی ایمان اوراخلاص میں سچے ہیں ۔( خازن الحشر تحت الایۃ: ۸ ۴ / ۲۴۸ مدارک الحشر تحت الایۃ: ۸ ص۱۲۲۵ ملتقطا) فقیر مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا حال اور ان کی فضیلت: حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ان مہاجرین نے گھر مال اور کنبے اللہ تعالی اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محبت میں چھوڑے اور اسلام کو قبول کیا اور ان تمام شدتوں اور سختیوں کو گوارا کیا جو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے انہیں پیش آئیں ان کی حالتیں یہاں تک پہنچیں کہ بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھتے تھے اورسردیوں میں کپڑا نہ ہونے کے باعث گڑھوں اور غاروں میں گزارا کرتے تھے۔( خازن الحشر تحت الایۃ: ۸ ۴ / ۲۴۸) ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی فضیلت کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ فقراء مہاجرین مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔( مسلم کتاب الزہد والرقائق ص۱۵۹۱ الحدیث: ۳۷(۲۹۷۹)) دوسری حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اے تنگدست مہاجرین کے گروہ!تمہیں بشارت ہوقیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔( ابو داود کتاب العلم باب فی القصص ۳ / ۴۵۲ الحدیث: ۳۶۶۶) نوٹ: یاد رہے کہ فقراء مہاجرین بعض مالداروں سے40برس پہلے جنت میں جائیں گے اور بعض سے 500 برس پہلے جنت میں جائیں گے لہذا پہلے والی حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جیسا کہ مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ پہلی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :خیال رہے کہ یہ فقراء بعض امیروں سے چالیس سال پہلے اور بعض امیروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے لہذا یہ حدیث پانچ سو برس والی حدیث کے خلاف نہیں ۔( مراۃ المناجیح باب فضل الفقراء وماکان من عیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم الفصل الاول ۷ / ۶۶ تحت الحدیث: ۵۰۰۲) ایت ’’للفقرآء المهجرین‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے چار مسئلے معلوم ہوئے (1)… اس ایت میں اللہ تعالی نے ان مہاجر مسلمانوں کو فقراء فرمایاجو اپنے اموال وغیرہ مکہ معظمہ میں چھوڑ کر ائے تھے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کفار مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیں تو وہ اس کے مالک ہو جائیں گے۔ (2)…مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مدد کے لئے ائے تھے اور اللہ تعالی نے فرمایا کہ میری مدد کے لئے ائےاس سے معلوم ہوا کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مددکرنا اللہ تعالی کی مددکرناہے یعنی حقیقت میں اللہ تعالی کے دین کی مدد کرنا ہے ۔ (3)… اللہ تعالی کے بندوں کی مدد لینا شرک نہیں ۔ (4)… خلفاء راشدین رضی اللہ تعالی عنہم کی خلافت بر حق ہے کیونکہ ان خلافتوں کو سارے مہاجرین و انصار رضی اللہ تعالی عنہم نے حق کہا اور وہ سب سچے ہیں ۔