Surah Al Anam Ayat 114 (6:114)
The Cattle · Juz 8 · Makki
اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًاؕ-وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ 114
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا میں اللہ کے سوا کسی کو حاکم بنالوں؟ حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اُتاری اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تو اے سننے والے تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا اللہ کے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں اور وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل کتاب اُتاری اور جن کو ہم نے کتاب دی وہ جانتے ہیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے سچ اترا ہے تو اے سننے والے تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ افغیر الله ابتغی حكما: توکیا میں اللہ کے سوا کسی کوحاکم بنالوں} شان نزول: کفار مکہ نے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ یہود و نصاری کے پوپ پادریوں کو ہم اور اپ پنچ بنا لیں جو یہ فیصلہ کریں کہ ہم حق پر ہیں یا اپ۔ تب یہ ایت کریمہ نازل ہوئی۔ (روح البیان الانعام تحت الایۃ: ۱۱۴ ۳ / ۹۰) اس ایت مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے پہلے کفار کے بارے میں بیان ہو اکہ انہوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ اگر ان کی مطلوبہ نشانیاں انہیں دکھا دی جائیں تو وہ ایمان لے ائیں گے اس پرانہیں جواب دیا گیا کہ ان نشانیوں کو ظاہر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اللہ تعالی اگر ان کی مطلوبہ نشانیاں ظاہر کر دے تو بھی وہ لوگ اپنے کفر پر قائم ہی رہیں گے۔ اب اس ایت مبارکہ میں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت پرد لالت کرنے والی نشانیاں تو مکمل طور پر ظاہر ہو چکی ہیں ایک نشانی تو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر مفصل کتاب اتاری جس میں امرونہی وعدہ و وعید اور حق و باطل کا فیصلہ اور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صدق کی شہادت اور کفار کے افتراء کا بیان ہے اور دوسری نشانی یہ ہے کہ تورات و انجیل میں رسول اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے رسول برحق ہونے اور قران پاک کے اللہ تعالی کی کتاب ہونے پر دلالت کرنے والی نشانیاں موجود ہیں۔ اللہ تعالی نے جنہیں اسمانی کتاب کی سچی سمجھ نصیب کی جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ نیزعام علماء اہل کتاب ان دلائل کی وجہ سے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حق جانتے ہیں اگرچہ کسی دنیاوی وجہ سے اس کا اقرار نہ کریں۔ لہذا اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تم ان مشرکین سے فرما دوکہ کیا میں اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کو حاکمو قاضی بنالوں جو میرے اور تمہارے درمیان فصلہ کرے حالانکہ اللہ تعالی نے میری نبوت کے حق ہونے کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ جب اس نے عاجز کر دینے والی کتاب یعنی قران پاک مجھ پر نازل فرما دیا تو میری نبوت کے درست ہونے کا فیصلہ بھی ہو گیا اور اللہ عزوجل کے فیصلے سے بڑھ کر اور کسی کا فیصلہ نہیں لہذا اب میری نبوت کا اقرار کرنا ضروری ہے۔( تفسیر کبیر الانعام تحت الایۃ: ۱۱۴ ۵ / ۱۲۳-۱۲۴) { فلا تكونن من الممترین:تو اے سننے والے تو ہر گز شک والوں میں نہ ہو۔} ایک قول یہ ہے کہ یہاں خطاب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے اس صورت میں معنی یہ ہوا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اس بات پر شک کرنے والوں میں نہ ہونا کہ اہل کتاب کے علماء جانتے ہیں کہ یہ قران حق ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے حبیب ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اس بات پر شک کرنے والوں میں نہ ہو نا کہ ہم نے اپ کو جو بیان کیا ہے وہ حق ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ اس کا تعلق ان باتوں سے ہے جو کسی کوا بھارنے کے لئے کی جاتی ہیں ورنہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تو شک کر ہی نہیں سکتے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ بظاہر اگرچہ خطاب سرکار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے لیکن مراد ان کا غیر ہے۔ اب معنی یہ ہوا کہ’’ اے قران پاک کوسننے والے انسان! تو اس بات میں شک نہ کرنا کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا ہے کیونکہ یہ ایسا عاجز کر دینے والا کلام ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر ہی نہیں۔ (خازن الانعام تحت الایۃ: ۱۱۴ ۲ / ۴۹)