Surah Al Anam Ayat 129 (6:129)
The Cattle · Juz 8 · Makki
وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ 129
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر ان کے اعمال کے سبب مسلط کردیتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں بدلہ ان کے کیے کا۔
Tafseer (Urdu)
{ و كذلك نولی بعض الظلمین بعضا:اور یونہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں۔} یعنی جس طرح ہم نے جنوں اور انسانو ں کو رسوا کیا یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا اسی طرح ہم ظالموں میں سے ایک کو دوسرے پر ان کے اعمال کی وجہ سے مسلط کردیتے ہیں اور ظالم کی ظالم کے ذریعے پکڑ فرماتے ہیں۔ (روح البیان الانعام تحت الایۃ: ۱۲۹ ۳ / ۱۰۴) ظلم کرنے والوں کو عبرت انگیز نصیحت: اس ایت مبارکہ میں ظلم کرنے والوں کے لئے بڑی نصیحت ہے چنانچہ حضرت ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اس ایت میں ظلم کرنے والوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم سے باز نہ ائے تو اللہ تعالی ان پر دوسرا ظالم مسلط کر دے گا جو انہیں ذلیل و خوار اور تباہ و برباد کر دے گا۔ اس ایت میں ہر قسم کے ظالم داخل ہیں وہ شخص جو گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کرتا ہے جو حاکم یا افسر اپنی رعایا اور ماتحت لوگوں پر ظلم کرتا ہے جو تاجر جعلی اشیاء اور ملاوٹ والی چیزیں فروخت کر کے خریداروں پر ظلم کرتا ہے اسی طرح جو چور اور ڈاکو مسافروں اور شہریوں سے لوٹ مار کر کے ان پر ظلم کرتے ہیں یہ سب ظالم کی صف میں شامل ہیں ان تمام پر اللہ تعالی کوئی ان سے بڑا ظالم مسلط کر دیتا ہے۔ (قرطبی الانعام تحت الایۃ: ۱۲۹ ۴ / ۶۲ الجزء السابع) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : اللہ عزوجل جب کسی قوم کی بھلائی چاہتا ہے تو اچھوں کو ان پر مقرر کرتا ہے اور کسی سے برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو بروں کو ان پر مقرر فرماتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ جو قوم ظالم ہوتی ہے اس پر ظالم بادشاہ مقرر کیا جاتا ہے تو جو اس ظالم کے پنجہ ظلم سے رہائی چاہیں انہیں چاہئے کہ ظلم چھوڑ دیں۔ (خازن الانعام تحت الایۃ: ۱۲۹ ۲ / ۵۶) لہذاایسے حضرات کو چاہئے کہ درج ذیل روایات اور ایک قول کا بغور مطالعہ کر کے عبرت حاصل کریں اوراللہ رب العالمین کی بارگاہ میں اپنے ظلم سے سچی توبہ کر کے مظلوموں سے معافی کی کوئی صورت بنائیں۔ (1)…حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ عزوجل سے ڈرو خدا کی قسم! جو مومن دوسرے مومن پر ظلم کرے گا توقیامت کے دن اللہ عزوجل اس ظالم سے انتقام لے گا۔ (کنز العمال کتاب الاخلاق قسم الاقوال الظلم والغضب ۲ / ۲۰۲ الحدیث: ۷۶۲۱ الجزء الثالث) (2)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جس نے کسی ظالم کی اس کے ظلم پر مدد کی وہ قیامت کے دن اس حال میں ائے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہو گا یہ اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہے۔( مسند الفردوس باب المیم ۳ / ۵۸۳ الحدیث: ۵۸۲۳) (3)…حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ وہ اللہ تعالی سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالی کسی حقدار کو اس کے حق سے منع نہیں کرتا۔ (کنز العمال کتاب الاخلاق قسم الاقوال الظلم والغضب ۲ / ۲۰۰ الحدیث: ۷۵۹۴ الجزء الثالث) (4)…حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ تعالی اسی ظالم کو اس پر مسلط کر دے گا۔ (ابن عساکر حرف الباء ذکر من اسمہ عبد الباقی۳۴ / ۴) (5)… حضرت فضیل بن عیاض رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’جب تو ایک ظالم کودوسرے ظالم سے انتقام لیتا ہوا دیکھے تو پھر ٹھہر جا اور تعجب سے یہ تماشا دیکھ (قرطبی الانعام تحت الایۃ: ۱۲۹ ۴ / ۶۲ الجزء السابع)۔ [1] [1] …ظلم سے متعلق نصیحت انگیز معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا رسالہ’’ظلم کا انجام‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ کرنا بہت مفید ہے۔