Surah Al Anam Ayat 131 (6:131)
The Cattle · Juz 8 · Makki
ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ 131
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ اس لیے ہے کہ تیرا رب بستیوں کوظلم سے تباہ نہیں کرتا جبکہ ان کے لوگ بے خبر ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ اس لیے کہ تیرا رب بستیوں کو ظلم سے تباہ نہیں کرتا کہ ان کے لوگ بے خبر ہوں۔
Tafseer (Urdu)
{ ذلك:یہ۔} تفسیر خازن بغوی تفسیر کبیر بیضاویالبحر المحیطتفسیر طبری مدارک جلالین روح البیان روح المعانی وغیرہ کتب تفسیر میں ’’ذلك‘‘کا مشارالیہ’’ رسولوں کا بھیجنا اور ان کا کفار کو عذاب الہی سے ڈرانا ‘‘مذکور ہے۔ تفسیر خازن میں اسے جمہور مفسرین کا قول قرار دیا گیا اور اسے ہی اصح کہا گیا۔ تفسیر البحر المحیط میں اس کے علاوہ دو قول اور مذکور ہیں (1) مشار الیہ پچھلی ایت میں مذکور سوال ہے۔ (2) کفار کا جھٹلانا اور گناہوں میں مبتلا ہونا۔ ان دونوں اقوال کو صاحب تفسیر البحر المحیط نے درست قرار نہیں دیا البتہ تفسیر ابو سعود میں اس کا مشار الیہ کفار کا اعتراف و اقرار مذکور ہے اور صاحب روح المعانی نے پہلے جمہور مفسرین والا قول ذکر کیا اس کے بعد قیل کہہ کے کفار کے اعتراف والا قول ذکر کیا ہے تفسیر سمرقندی میں بھی یہ قول مذکور ہے۔ { ذلك:یہ۔} یعنی یہ اس لیے ہے کہ رب تعالی بستیوں کوان کی معصیت اور ظلم کی وجہ سے تباہ نہیں کرتا جبکہ ان کے لوگ بے خبر ہوں بلکہ عذاب سے پہلے رسول بھیجے جاتے ہیں جو انہیں ہدایت فرماتے اور ان پر حجت قائم کرتے ہیں اس پر بھی وہ سرکشی کریں تو ہلاک کر دئیے جاتے ہیں۔ لہذا قیامت میں حساب کتاب سوال جواب رب تعالی کی بے علمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ جیسے دنیا میں بے خبروں پر عذاب نہیں ایسے ہی اخرت میں بھی نہیں مجرموں کو بتا کر اعمال نامہ دکھا کر عذاب دیا جائے گا۔اس ایت سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ اللہ تعالی بد عملی کے بغیر عذاب نہیں بھیجتا ۔ دوسرا یہ کہ نبی کی تبلیغ پہنچے بغیر کسی کو بد عملیوں کی سزا نہیں مل سکتی۔