Surah Al Anam Ayat 135 (6:135)
The Cattle · Juz 8 · Makki
قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌۚ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ 135
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ، اے میری قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو، میں اپنا کام کرتا ہوں تو عنقریب تم جان لو گے کہ آخرت کے گھر کا (اچھا) انجام کس کے لئے ہے؟ بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ اے میری قوم تم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں تو اب جاننا چاہتے ہو کس کا رہتا ہے آخرت کا گھر بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔
Tafseer (Urdu)
{ اعملوا على مكانتكم:تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کفار مکہ سے فرما دیں کہ تم اپنی مرضی سے وہی اعمال کرتے رہو جو کر رہے ہو اور اپنے کفر و سرکشی پر قائم رہو جبکہ میں تمہاری طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کر کے اسلام پر قائم رہ کر اور نیک اعمال پر ہمیشگی اختیار کر کے اپنا کام کرتا ہوں تو عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اخرت کے گھر کا اچھا انجام کس کے لئے ہے۔ بے شک اللہ تعالی کے ساتھ کفر و شرک کرنے والے فلاح نہیں پاتے۔ (روح البیان الانعام تحت الایۃ: ۱۳۵ ۳ / ۱۰۸) یاد رہے کہ اس ایت میں جو فرمایا گیا کہ ’’تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو‘‘ اس میں کفر یا گناہ کی اجازت نہیں بلکہ اظہار غضب کے لئے ا س طرح فرمایا گیا جیسے ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ فمن شآء فلیؤمن و من شآء فلیكفر‘‘ (الکہف:۲۹) ترجمہ کنزالعرفان:تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ اور یہ جو فرمایا گیا کہ’’ عنقریب تم جان لو گے کہ اخرت کے گھر کا اچھاانجام کس کے لئے ہے‘‘ ا س سے مراد یہ ہے کہ اگرچہ اج بھی فیصلہ ہو چکا کہ مومن جنتی ہے اور کافر دوزخی لیکن چشم دید فیصلہ قیامت میں ہو گا یا عذاب اتے وقت ہوگا۔