Surah Al Anam Ayat 143 (6:143)
The Cattle · Juz 8 · Makki
ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍۚ-مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِؕ-قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِؕ- نَبِّـٴُـوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 143
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (اللہ نے) آٹھ نر و مادہ جوڑے (پیدا کئے۔) ایک جوڑا بھیڑ سے اور ایک جوڑا بکری سے۔ تم فرماؤ، کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ جانور پیٹوں میں لئے ہوئے ہیں ؟ اگر تم سچے ہو تو علم کے ساتھ بتاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآٹھ نر اور مادہ ایک جوڑا بھیڑ کا اور ایک جوڑا بکری کا تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں کسی علم سے بتاؤ اگر تم سچے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ ثمنیة ازواج:آٹھ نر و مادہ۔} اس ایت میں جانوروں کے اٹھ جوڑے بیان کئے گئے یعنی نرومادہ اونٹ گائے بھیڑ بکری کے جوڑے۔ جانور تو اس کے علاوہ بھی ہیں لیکن چونکہ اہل عرب کے سامنے زیادہ تریہی جانور ہوتے تھے اور حرام و حلال کے جو انہوں نے قاعدے بنائے تھے وہ بھی انہی جانوروں کے بارے میں تھے اس لئے بطور خاص انہی جوڑوں کا بیان کیا گیا چنانچہ فرمایا کہ کیا ان جانوروں کے صرف نر حرام ہیں یا صرف مادے یا نرومادہ دونوں اللہ تعالی نے نہ تو بھیڑ بکری کے نر حرام کئے اور نہ ان کی مادائیں حرام کیں اور نہ ان کی اولاد ۔ تمہارا یہ فعل کہ کبھی نر حرام ٹھہراؤ کبھی مادہ کبھی ان کے بچے یہ سب تمہاری اپنی اختراع ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ { نبـٴـونی بعلم ان كنتم صدقین:اگر تم سچے ہو تو علم کے ساتھ بتاو۔}یعنی ان جانوروں کو تم حرام مانتے ہواگر اس میں تم سچے ہو تو اس حرمت کی قطعی یقینی دلیل لاو۔ دلیل دینا حرمت کا دعوی کرنے والے پر لازم ہے: اس سے معلوم ہوا کہ حلت کا دعوی کرنے والے سے دلیل نہ مانگی جائے گی بلکہ حرمت کا دعوی کرنے والے پر دلیل لانا لازم ہے۔ اج کل بدمذہب ہم سے ہر چیز کی حلت پر دلیل مانگتے ہیں اور خود حرمت کی دلیل نہیں پیش کرتے۔ یہ اصول قران کے صریح خلاف ہے۔ خود غور کر لیں کہ اللہ تعالی نے ان جانوروں کے حرام ماننے والوں سے دلیل مانگی ہے یا حلال سمجھنے والوں سے۔