Surah Al Anam Ayat 165 (6:165)
The Cattle · Juz 8 · Makki
وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىٕفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْؕ-اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ ﳲ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ ٜ 165
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب بنایا اور تم میں ایک کو دوسرے پر کئی درجے بلندی عطا فرمائی تاکہ وہ تمہیں اس چیز میں آزمائے جو اس نے تمہیں عطا فرمائی ہے بیشک تمہارا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ تمہیں آزمائے اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بیشک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بیشک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ و هو الذی جعلكم خلىف الارض:اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب بنایا۔} کیونکہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خاتم النبیین ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ا مت سب امتوں میں اخری امت ہے اس لئے ان کو زمین میں پہلوں کا خلیفہ کیا کہ اس کے مالک ہوں اور اس میں تصرف کریں۔ اور فرمایا: ’’اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی‘‘ یعنی شکل و صورت میں حسن و جمال میں رزق و مال میں علم و عقل میں اور قوت و کمال میں ایک کو دوسرے پر بلندی دی اور اس کا مقصد تمہاری ازمائش کرنا ہے کہ کون نعمتوں کے ملنے پر شکر ادا کرتا ہے اور کون ظلم و زیادتی کی راہ پر چلتا ہے کون امتحان میں کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام ہوتا ہے قران کریم کی اور ایات میں بھی اس چیز کو بیان کیاگیا ہے چنانچہ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے : ’’ احسب الناس ان یتركوا ان یقولوا امنا و هم لا یفتنون ‘‘ (عنکبوت:۲) ترجمہ کنزالعرفان:کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں ہم’’ ایمان لائے ‘‘ اور انہیں ازمایا نہیں جائے گا اور ارشاد فرمایا: ’’ و لنبلونكم بشیء من الخوف و الجو ع و نقص من الاموال و الانفس و الثمرت‘‘ (بقرہ:۱۵۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ اور فرمایا: ’’ كل نفس ذآىقة الموت-و نبلوكم بالشر و الخیر فتنة-و الینا ترجعون‘‘ (الانبیاء:۳۵) ترجمہ کنزالعرفان: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور ہم برائی اور بھلائی کے ذریعے تمہیں ازماتے ہیں اور ہماری ہی طرف تم لوٹائے جاو گے۔ ارشاد فرمایا : ’’ فاذا مس الانسان ضر دعانا-ثم اذا خولنه نعمة منا-قال انما اوتیته على علم-بل هی فتنة و لكن اكثرهم لا یعلمون ‘‘ (الزمر:۴۹) ترجمہ کنزالعرفان: پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں توکہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے (حالانکہ ایسا نہیں ہے) بلکہ وہ تو ایک آزمائش ہے مگر ان میں اکثر لوگ جانتے نہیں۔ ایک اور مقام پر فرمایا: ’’ انا جعلنا ما على الارض زینة لها لنبلوهم ایهم احسن عملا ‘‘ (کہف:۷) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو اس کیلئے زینت بنایا تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے { ان ربك سریع العقاب:بیشک تمہارا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے۔}یعنی اللہ تعالی فاسق و فاجر اور گنہگار کو بہت جلد سزا دینے والا ہے۔ اس مقام پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے حلیم ہونے میں کوئی شک نہیں ہے وہ اپنے نافرمان کو جلدی سزا نہیں دیتا پھر کس طرح فرمایا کہ’’بیشک تمہارا رب بہت جلد عذاب دینے والا ہے۔‘‘ اس کا جواب دیتے ہوئے ابو عبداللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ ہر وہ کام جویقینا ہونے والا ہے وہ قریب ہی ہے۔ (قرطبی الانعام تحت الایۃ: ۱۶۵ ۴ / ۱۱۶ الجزء السابع) تفسیر صاوی میں ہے کہ ’’ سریع العقاب ‘‘ کا معنی ہے جب عذاب کا وقت ا جائے تو اس وقت اللہ تعالی عذاب نازل کرنے میں دیر نہیں فرماتا۔ (صاوی الانعام تحت الایۃ: ۱۶۵ ۲ / ۶۵۳)