Surah Al Anam Ayat 37 (6:37)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ 37
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کہا: ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی؟ تم فرمادو کہ بیشک اللہ کسی نشانی کے اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بولے ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و قالوا: اور انہوں نے کہا۔} کفار مکہ نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ان کے رب عزوجل کی طرف سے ایسی کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرمایا گیا کہ ان کے جواب میں اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تم فرمادو کہ بیشک اللہ عزوجل ہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ اس بات سے بے علم ہیں کہ اگر کوئی نشانی اللہ عزوجل نے اتار دی تو نہ ماننے کی صورت میں فوری طور پر ہلاک کردیے جائیں گے۔ کفار کی گمراہی اور ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ کثیر آیات و معجزات جو انہوں نے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مشاہدہ کئے تھے ان پر قناعت نہ کی اور سب سے مکر گئے اور ایسی نشانی طلب کرنے لگے جس کے ساتھ عذاب الہی ہو جیسا کہ انہوں نے کہا تھا ’’ اللہم ان کان ہذا ہوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء‘‘ یارب اگر یہ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔ (ابو سعود الانعام تحت الایۃ: ۳۷ ۲ / ۱۴۶۔) اس پر انہیں فرمایا گیا کہ یہ جاہل ہیں اور جانتے نہیں کہ اس طرح کی نشانی کا اترنا ان کے لئے بلا و مصیبت ہے کہ انکار کرتے ہی ہلاک کردیئے جائیں گے اور اپنی موت خود اپنے منہ سے مانگ رہے ہیں۔ ان معجزات کا نہ اتارنا بھی حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رحمت کی وجہ سے ہے۔