Surah Al Anam Ayat 43 (6:43)
The Cattle · Juz 7 · Makki
فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰـكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 43
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑاتے لیکن ان کے تودل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے آراستہ کردئیے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے تو دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے کام ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے۔
Tafseer (Urdu)
{ فلو لا اذ جآءهم باسنا تضرعوا:تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑاتے}اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں مجموعی طور پر یہ فرمایا گیا کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ گڑگڑاتے تاکہ ہم انہیں توبہ کا موقع دیتے لیکن ان کے تودل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے اراستہ کردئیے تھے پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھیں اور وہ کسی طرح نصیحت قبول کرنے کی طرف نہ ائے نہ تو پیش آنے والی مصیبتوں سے اور نہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نصیحتوں سے توہم نے ان پر ہر چیز یعنی صحت و سلامت اور وسعت رزق و عیش و غیرہ کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس عیش و عشرت پرخوش ہوگئے اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھنے لگے اور قارون کی طرح تکبر کرنے لگے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا اور انہیں مبتلائے عذاب کردیا اور اب وہ ہر بھلائی سے مایوس ہیں۔ اللہ تعالی کی نعمت پر خوش ہونے کا حکم: یاد رہے کہ اللہ عزوجل کی نعمت پر خوش ہونا اگر فخر تکبر اور شیخی کے طور پر ہو تو برا ہے اور کفار کا طریقہ ہے اور اگر شکر کے طور پر ہو تو بہتر ہے اور صالحین کا طریقہ بلکہ حکم الہی ہے جیسا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: و اما بنعمة ربك فحدث (والضحی: ۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ اور ارشاد فرماتا ہے: قل بفضل الله و برحمته فبذلك فلیفرحوا (یونس: ۵۸) ترجمہ کنزالعرفان:تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔ کفر اور گناہوں کے باوجود دنیوی خوشحالی کا اصلی سبب: اس ایت سے معلوم ہوا کہ کفر اور گناہوں کے باوجود دنیاوی راحتیں ملنا در اصل اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل اور اس کا غضب و عذاب ہے کہ اس سے انسان اور زیادہ غافل ہو کر گناہ پر دلیر ہو جاتا ہے بلکہ کبھی خیال کرتا ہے کہ گناہ اچھی چیز ہے ورنہ مجھے یہ نعمتیں نہ ملتیں اور یہ کفر ہے ۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالی بندوں کو ان کے گناہوں کے باوجود ان کی پسند کے مطابق عطا فرما رہاہے تو یہ ان کے لئے صرف اللہ تعالی کی طرف سے استدراج اور ڈھیل ہے پھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی ’’ فلما نسوا ما ذكروا به فتحنا علیهم ابواب كل شیء-حتى اذا فرحوا بما اوتوا اخذنهم بغتة فاذا هم مبلسون‘‘ ترجمہ کنزالعرفان:پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیاجو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا پس اب وہ مایوس ہیں۔‘‘ (مسند امام احمد مسند الشامیین حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی ۶ / ۱۲۲ الحدیث: ۱۷۳۱۳) حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’خدا کی قسم ! جس شخص کو اللہ تعالی نے دنیا میں وسعت عطا فرمائی اور اسے یہ خوف نہ ہو کہ کہیں اس میں اس کے لئے اللہ تعالی کی کوئی خفیہ تدبیر نہ ہو تو بے شک ا س کا عمل ناقص اور اس کی فکر کمزور ہے اور جس شخص سے اللہ تعالی نے وسعت روک لی اور اس نے یہ گمان نہ کیا کہ وسعت روکنے میں اس کے لئے کوئی بھلائی ہو گی تو بے شک ا س کا عمل ناقص اور ا س کی فکر کمزور ہے۔ (تفسیر قرطبی الانعام تحت الایۃ: ۴۴ ۳ / ۲۶۵ الجزء السادس۔) اس سے ان نام نہاد دانشوروں کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے جو کافروں کی ترقی دیکھ کر اسلام سے ہی ناراض ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں کی معیشت کا رونا روتے ہوئے انہیں کفار کی اندھی تقلید کادرس دیتے ہیں اور اسلامی شرم و حیا اور تجارت کے شرعی قوانین کو لات مارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔