Surah Al Anam Ayat 45 (6:45)
The Cattle · Juz 7 · Makki
فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاؕ-وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اورتمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی اور سب خوبیوں سراہا اللہ رب سارے جہان کا۔
Tafseer (Urdu)
{ فقطع دابر القوم الذین ظلموا:تو ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی۔} ارشاد فرمایا کہ ایمان کی بجائے کفر اختیار کرنے اور اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی بجائے گناہوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور سب کے سب ہلاک کردیئے گئےان میں سے کوئی باقی نہ چھوڑا گیا۔ {و الحمد لله رب العلمین:اورتمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔} یعنی اللہ تعالی کی حمد ہے اس پر کہ اس نے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کی جڑ کاٹ دی ۔ اس ایت میں یہ بھی تعلیم ہے کہ لوگ ظالموں کی ہلاکت پر اللہ تعالی کی حمد کریں اور اس کا شکر بجا لائیں۔ (تفسیر سمرقندی الانعام تحت الایۃ: ۴۵ ۱ / ۴۸۵) بے دینوں اور ظالموں کی ہلاکت اللہ تعالی کی نعمت ہے: اس سے معلوم ہوا کہ گمراہوں بے دینوں اور ظالموں کی ہلاکت اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اس پر شکر کرنا چاہئے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی سیرت مبارکہ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں چنانچہ ابو جہل کے قتل پر حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سجدہ شکر ادا کیا ۔ (سیرت حلبیہ باب غزوۃ بدر الکبری ۲ / ۲۳۶) عاشورہ کے دن نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے روزہ رکھنے کا حکم دیا کہ اس دن فرعون ہلاک ہوا۔ (مسلم کتاب الصیام باب صوم یوم عاشوراء ص۵۷۲ الحدیث: ۱۲۸(۱۱۳۰)) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے یمامہ کی فتح اور مسیلمہ کذاب کے مرنے کی خبر ملنے پر سجدہ شکر کیا اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے جب( خارجیوں کے درمیان) ذو الثدیہ یعنی دو پستانوں والے مرد کو مردہ پایا تو سجدہ شکر کیا۔ (فتح القدیر کتاب الصلاۃ باب سجود السہو ۱ / ۴۵۷) لہذا مومن کی وفات پر ’’ انا لله و انا الیه رجعون‘‘ پڑھئے اور موذی کافر کی موت پر’’ الحمد لله ‘‘ پڑھئے۔