Surah Al Anam Ayat 63 (6:63)
The Cattle · Juz 7 · Makki
قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًۚ-لَىٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ 63
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ ،وہ کون ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر کی ہولناکیوں سے نجات دیتا ہے ؟ تم اسے گڑگڑا کر اور پوشیدہ طور پر پکارتے ہو (اورتم کہتے ہو کہ) اگر وہ ہمیں اس سے نجات دیدے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ وہ کون ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے جسے پکارتے ہو گِڑگِڑا کر اور آہستہ کہ اگر وہ ہمیں اس سے بچاوے تو ہم ضرور احسان مانیں گے ۔
Tafseer (Urdu)
{ قل: تم فرماو۔} اس آیت میں کفار کو ان کے شرک پرتنبیہ کی گئی ہے کیونکہ خشکی اور تری کے سفروں میں جب وہ مبتلائے آفات ہو کر پریشان ہوتے ہیں اور انہیں ایسی شدتوں اور ہولناکیوں سے واسطہ پڑتا ہے جن سے دل کانپ جاتے ہیں اور خطرات قلوب کو مضطرب اور بے چین کردیتے ہیں اس وقت بت پرست بھی بتوں کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالی ہی سے دعا کرتا ہے اور اسی کی جناب میں تضرع وزاری کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس مصیبت سے اگر تونے نجات دی تو میں شکر گزار ہوں گا اور تیرا حق نعمت بجالاوں گا لیکن ہوتا کیا ہے اسے اللہ عزوجل نے اگلی ایت میں بیان فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انہیں بتاو کہ اللہ عزوجل تمہیں ان ہولناکیوں سے اور اس کے علاوہ زندگی کی ہر بے چینی سے نجات دیتا ہے لیکن پھر بھی تم لوگ شرک کرتے ہو اور بجائے شکر گزاری کے ایسی بڑی ناشکری کرتے ہو اور یہ جانتے ہوئے کہ بت نکمے ہیں کسی کام کے نہیں پھر انہیں اللہ عزوجل کا شریک کرتے ہو یہ کتنی بڑی گمراہی ہے۔ اس ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیا میں کفار کی بعض دعائیں قبول ہو جاتی ہیں کہ کفار جو مصیبت میں پھنس کر نجات کی دعا کرتے تھے رب عزوجل انہیں نجات دے دیتا تھا شیطان نے اپنی درازی عمر کی دعا کی جو قبول ہوئی۔