Surah Al Anam Ayat 68 (6:68)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖؕ-وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ 68
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے سننے والے! جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں بیہودہ گفتگو کرتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے سننے والے جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
Tafseer (Urdu)
{ الذین یخوضون فی ایتنا: جو ہماری ایتوں میں بیہودہ گفتگو کرتے ہیں۔} اس ایت مبارکہ میں کافروں بے دینوں کی صحبت میں بیٹھنے سے منع کیا گیا اور فرمایا کہ ان کے پاس نہ بیٹھو اور اگر بھول کر بیٹھ جاو تو یاد انے پر اٹھ جاو۔ بد مذہبوں کی محفلوں میں جانے اور ان کی تقاریر سننے کا شرعی حکم: اس آیت سے معلوم ہوا کہ بے دینوں کی جس مجلس میں دین کا احترام نہ کیا جاتا ہو مسلمان کو وہاں بیٹھنا جائز نہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ کفار اور بے دینوں کے جلسے جن میں وہ دین کے خلاف تقریریں کرتے ہیں ان میں جانا شرکت کرنا جائز نہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ آخری زمانہ میں جھوٹے دجال ہوں گے جو تمہارے پاس وہ احادیث لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ داداوں نے ان کو اپنے اور اپنے کو ان سے دور رکھو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔(مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحملہا ص۹ الحدیث: ۷(۷)) البتہ علماء جو ان بد مذہبوں کارد کرنے کیلئے جاتے ہیں وہ اس حکم میں داخل نہیں۔یاد رہے کہ بد مذہبوں کی محفل میں جانا اور ان کی تقریر سننا ناجائز و حرام اور اپنے اپ کو بدمذہبی و گمراہی پر پیش کرنے والا کام ہے۔ ان کی تقاریر ایات قرانیہ پر مشتمل ہوں خواہ احادیث مبارکہ پر اچھی باتیں چننے کا زعم رکھ کر بھی انہیں سننا ہر گز جائز نہیں۔ عین ممکن بلکہ اکثر طور پر واقع ہے کہ گمراہ شخص اپنی تقریر میں قران و حدیث کی شرح ووضاحت کی اڑ میں ضرور کچھ باتیں اپنی بد مذہبی کی بھی ملا دیا کرتے ہیں اور قوی خدشہ بلکہ وقوع کا مشاہدہ ہے کہ وہ باتیں تقریر سننے والے کے ذہن میں راسخ ہو کر دل میں گھر کر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گمراہ و بے دین کی تقریر و گفتگو سننے والا عموما خود بھی گمراہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف اپنے ایمان کے بارے میں بے حد محتاط ہوا کرتے تھے لہذا باوجودیہ کہ وہ عقیدے میں انتہائی متصلب و پختہ ہوتے پھر بھی وہ کسی بدمذہب کی بات سننا ہر گز گوارا نہ فرماتے تھے اگرچہ وہ سو بار یقین دہانی کراتا کہ میں صرف قران و حدیث بیان کروں گا۔ چنانچہ اعلی حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ اس بارے میں اسلاف کا عمل نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’سیدنا سعید بن جبیر شاگرد عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکو راستہ میں ایک بد مذہب ملا۔ کہا کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی ایک کلمہ۔ اپنا انگوٹھا چھنگلیا کے سرے پر رکھ کر فرمایا ’’و لا نصف کلمۃ‘‘ ادھا لفظ بھی نہیں۔ لوگوں نے عرض کی اس کا کیا سبب ہے۔ فرمایا یہ ان میں سے ہے یعنی گمراہوں میں سے ہے۔ امام محمد بن سیرین شاگرد انس رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس دو بد مذہب ائے۔ عرض کی کچھ ایات کلام اللہ اپ کو سنائیں ! فرمایا میں سننا نہیں چاہتا۔ عرض کی کچھ احادیث نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سنائیں ! فرمایا میں سننا نہیں چاہتا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ فرمایا تم دونوں اٹھ جاو یا میں اٹھا جاتا ہوں۔ اخر وہ خائب و خاسر چلے گئے۔ لوگوں نے عرض کی: اے امام! اپ کا کیا حرج تھا اگر وہ کچھ ایتیں یا حدیثیں سناتے فرمایا میں نے خوف کیا کہ وہ ایات و احادیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے تو ہلاک ہو جاوں۔ پھر فرمایا ’’ائمہ کو تو یہ خوف اور اب عوام کو یہ جرات ہے ولا حول و لا قوۃ الا باللہ۔ دیکھو! امان کی راہ وہی ہے جو تمہیں تمہارے پیارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بتائی’’ایاکم و ایا ھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم‘‘ان (بدمذہبوں ) سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ دیکھو! نجات کی راہ وہی ہے جو تمہارے رب عزوجل نے بتائی ’’فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین‘‘(انعام: ۶۸) یاد ائے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔ بھولے سے ان میں سے کسی کے پاس بیٹھ گئے ہو تو یاد انے پر فورا کھڑے ہو جاو۔(فتاوی رضویہ ۱۵ / ۱۰۶ ۱۰۷ ملخصا)