Surah Al Anam Ayat 86 (6:86)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَ 86
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اسماعیل اور یَسَع اور یونس اور لوط کو (ہدایت دی)اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔
Tafseer (Urdu)
{ و اسمعیل و الیسع:اور اسماعیل اوریسع۔} اس ایت اور اس سے اوپر والی دو ایات میں اللہ تعالی نے اٹھارہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور ان کے ذکر میں جو ترتیب ایت میں موجود ہے وہ نہ توزمانہ کے اعتبار سے ہے اور نہ فضیلت کے اعتبار سے لیکن جس شان سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اسماء ذکر فرمائے گئے اس میں ایک عجیب لطیفہ ہے وہ یہ کہ اللہ تعالی نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا جیسے حضرت نوح ابراہیم اسحق اور یعقوب علیہم الصلوۃ والسلام کا پہلے ذکر کیا کیونکہ یہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے اصول ہیں یعنی ان کی اولاد میں بکثرت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام ہوئے جن کے نسب انہیں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پھر نبوت کے بعد عظیم مقامات و مراتب میں سے ملک و اختیار اور سلطنت واقتدار ہے اللہ تعالی نے حضرت داود اور سلیمان علیہما الصلوۃ والسلام کو اس کا بہت بڑا حصہ عطا فرمایا اور اس شعبے کا زیادہ تر تعلق مقام شکر سے ہے۔ پھر اس کے بعد حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کا تذکرہ ہے کیونکہ مراتب رفیعہ (بلند مراتب) میں سے مصیبت و بلاء پر صابر رہنا بھی ہے اور اللہ تعالی نے حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کو اس مرتبے کے ساتھ ممتاز فرمایا پھر ملک ا ور صبر کے دونوں مرتبے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو عنایت کئے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے شدت و بلاء پر مدتوں صبر فرمایا پھر اللہ تعالی نے نبوت کے ساتھ ملک مصر عطا کیا۔ پھرحضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما الصلوۃ والسلام کا تذکرہ ہے کیونکہ معجزات کی کثرت اور دلائل و براہین کی قوت بھی مراتب معتبرہ میں سے ہیں اور اللہ تعالی نے حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما الصلوۃ والسلام کو اس کے ساتھ مشرف کیا۔ پھرزہد اور ترک دنیا بھی مراتب معتبرہ میں سے ہے اور حضرت زکریا حضرت یحیی حضرت عیسی اور حضرت الیاس علیہم الصلوۃ والسلام کو اس کے ساتھ مخصوص فرمایا پھر ان حضرات کے بعداللہ تعالی نے ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا کہ جن کے نہ پیروکار باقی رہے اورنہ ان کی شریعت جیسے حضرت اسمعیل حضرت یسع حضرت یونس اور حضرت لوط علیہم الصلوۃ والسلام۔ (خازن الانعام تحت الایۃ: ۸۶ ۲ / ۳۳) اس شان سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمانے میں ان کی کرامتوں اور خصوصیتوں کی ایک عجیب باریکی نظر آتی ہے۔ { و كلا فضلنا على العلمین:اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔} اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام فرشتوں سے افضل ہیں کیونکہ عالم یعنی جہان میں اللہ عزوجل کے سوا تمام موجودات داخل ہیں تو فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اور جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو فرشتوں پر بھی فضیلت ثابت ہوگئی۔ (خازن الانعام تحت الایۃ: ۸۶ ۲ / ۳۳)