Surah Al Anam Ayat 96 (6:96)
The Cattle · Juz 7 · Makki
فَالِقُ الْاِصْبَاحِۚ-وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًاؕ-ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ 96
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (وہ) تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والا (ہے) اور اس نے رات کوآرام (کا ذریعہ) بنایا اور اس نے سورج اور چاند کو (اوقات کے) حساب (کا ذریعہ بنایا) یہ زبردست، علم والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتاریکی چاک کرکے صبح نکالنے والا اور اس نے رات کو چین بنایا اور سورج اور چاند کو حساب یہ سادھا ہے زبردست جاننے والے کا۔
Tafseer (Urdu)
{ فالق الاصباح: تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والا۔} اللہ عزوجل اپنی مزید عظمتیں بیان فرماتا ہے چنانچہ فرمایا کہ وہ تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والا ہے چنانچہ صبح کے وقت مشرق کی طرف روشنی دھاگے کی طرح نمودار ہوتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس خط نے تاریکی چاک کردی یہ بھی اس کی قدرت ہے۔ نیز اس نے رات کوارام کا ذریعہ بنایا کہ مخلوق اس میں چین پاتی ہے اور دن کی تھکاوٹ اور ماندگی کو استراحت سے دور کرتی ہے اور شب بیدار زاہد تنہائی میں اپنے رب عزوجل کی عبادت سے چین پاتے ہیں۔نیز اس نے سورج اور چاند کو اوقات کے حسا ب کا ذریعہ بنایا کہ ان کے دورے اور سیر سے عبادات و معاملات کے اوقات معلوم ہوتے ہیں مثلا چاند سے قمری مہینے اور سورج سے شمسی مہینے بنتے ہیں۔ چاند سے اسلامی عبادات اور سورج سے موسموں اور نمازوں کا حساب لگتا ہے غرضیکہ ان میں عجیب قدرت کے کرشمے ہیں۔ یہ سب زبردست علم والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔ ایت سے معلوم ہوا کہ علم ریاضی علم نباتات علم فلکیات اور علم الحیوانات بھی بہت اعلی علوم ہیں کہ ان سے رب تعالی کی قدرت کاملہ ظاہر ہوتی ہے۔ اللہ عزوجل نے اسمانی اور زمینی چیزوں کو اپنی قدرت کا نمونہ بنایاہے۔ فقر و محتاجی دور ہونے کی دعا: حضرت مسلم بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے ’’اللہم فالق الاصباح وجاعل اللیل سکنا والشمس والقمر حسبانا اقض عنی الدین واغننی من الفقر ومتعنی بسمعی وبصری وقوتی فی سبیلک‘‘ اے اللہ! عزوجل (اے) تاریکی کو چاک کرکے صبح نکالنے والے اور رات کوارام (کا ذریعہ) بنانے والے اور سورج و چاند کو (اوقات کے) حساب (کا ذریعہ بنانے والے ) میرے قرض کو پورا فرما دے اور محتاجی سے مجھے غنا عطا فرما اور مجھے میری سماعت بصار ت اور قوت سے اپنی راہ میں فائدہ اٹھانے والا بنا۔( مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الدعاء من کان یدعو بالغنی ۷ / ۲۷ الحدیث: ۳)