Surah 60
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّۚ-یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْؕ-اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ ﳓ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ ﳓ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْؕ-وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(1)
اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ،تم انہیں دوستی کی وجہ سے خبریں پہنچاتے ہو حالانکہ یقینا وہ اس حق کے منکر ہیں جو تمہارے پاس آیا، وہ رسول کو اور تمہیں اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا طلب کرنے کیلئے نکلے تھے (تو ان سے دوستی نہ کرو) تم ان کی طرف محبت کا خفیہ پیغام بھیجتے ہو اور میں ہر اس چیز کوخوب جانتا ہوں جسے تم نے چھپایا اور جسے تم نے ظاہر کیا اور تم میں سے جو یہ (دوستی) کرے توبیشک وہ سیدھی راہ سے بہک گیا۔
اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَﭤ(2)
اگر وہ تمہیں پالیں تو تمہارے دشمن ہوں گے اور تمہاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ دراز کریں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم کافر ہوجاؤ۔
لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْۚۛ-یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚۛ-یَفْصِلُ بَیْنَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(3)
تمہارے رشتے اور تمہاری اولاد قیامت کے دن ہرگز تمہیں نفع نہ دیں گے، اللہ تمہارے درمیان جدائی کردے گا اور اللہ تمہارے کام خوب دیکھ رہا ہے۔
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۚ-اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ٘-كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(4)
بیشک ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں تمہارے لیے بہترین پیروی تھی جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: بیشک ہم تم سے اور ان سے بیزار ہیں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہاراا نکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور عداوت ظاہر ہوگئی حتّٰی کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ مگر ابراہیم کا اپنے (عرفی) باپ سے یہ کہنا (پیروی کے قابل نہیں ) کہ میں ضرور تیرے لئے مغفرت کی دعا مانگوں گا اور میں اللہ کے سامنے تیر ے لئے کسی نفع کا مالک نہیں ہوں۔ اے ہمارے رب! ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(5)
اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کیلئے آزمائش نہ بنا اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب! بیشک تو ہی بہت عزت والا،بڑا حکمت والا ہے۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ (6)
۔(اے مسلمانو!) بیشک ضرور تمہارے لیے ان میں اچھی پیروی تھی،اس کیلئے جو اللہ اورآخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور جو منہ پھیرے تو بیشک اللہ ہی بے نیاز، ہر حمد کے لائق ہے۔
عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةًؕ-وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(7)
قریب ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت پیدا فرما دے جو ان میں سے تمہارے دشمن ہیں۔ اور اللہ بہت قدرت والا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(8)
اللہ تمہیں ان لوگوں سے احسان کرنے اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین میں لڑائی نہیں کی اورنہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(9)
اللہ تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے اور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے پر (تمہارے مخالفین کی) مدد کی اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ظالم ہیں ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّؕ-اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّۚ-فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِؕ-لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّؕ-وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْاؕ-وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّؕ-وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْــٴَـلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْــٴَـلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْاؕ-ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِؕ-یَحْكُمُ بَیْنَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(10)
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں (کفرستان سے) اپنے گھر چھوڑ کر آئیں تو ان کا امتحان کرو، اللہ ان کے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے، پھر اگروہ تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو انہیں کافروں کی طرف واپس نہ لوٹاؤ، نہ یہ ان (کافروں ) کیلئے حلال ہیں اورنہ وہ (کافر) ان کیلئے حلال ہیں اور ان کے کافر شوہروں کووہ (حق مہر) دیدو جو انہوں نے خرچ کیا ہو اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کرلو جب ان کے مہر انہیں دو اور کافرہ عورتوں کے نکاح پر نہ جمے رہو اور وہ مانگ لو جو تم نے خرچ کیا ہو اور کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا، یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تم میں فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ بہت علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔
وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْاؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ(11)
اور اگرتم مسلمانوں کے ہاتھ سے تمہاری کچھ عورتیں کافروں کی طرف نکل جائیں پھر تم (کافروں کو) سزا دو تو جن کی بیویاں چلی گئی تھیں انہیں (مالِ غنیمت سے) اتنا دیدو جتناانہوں نے خرچ کیاتھا اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(12)
اے نبی! جب مسلمان عورتیں تمہارے حضور اس بات پر بیعت کرنے کیلئے حاضر ہوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان میں گھڑیں اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللہ بہت بخشنے والا،بڑا مہربان ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَىٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَىٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ (13)ٜ
اے ایمان والو! ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ نے غضب کیا، بیشک وہ آخرت سے ناامید ہوچکے ہیں جیسے کافر قبروالوں(کے دنیا میں لوٹنے) سے ناامید ہوچکے ہیں۔ (یا،قبر والوں میں سے کفار(ثواب آخرت سے) ناامید ہوچکے ہیں۔)۔

