Surah At Talaq Ayat 8 (65:8)
The Divorce · Juz 28 · Madani
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًاۙ-وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا اور انہیں برا عذاب دیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کتنے ہی شہر تھے جنھوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا اور انھیں بُری مار دی۔
Tafseer (Urdu)
{و كاین من قریة: اور کتنے ہی شہر تھے۔} اس ایت سے اللہ تعالی کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کتنے ہی شہر والے ایسے تھے جنہوں نے اپنے رب عزوجل کے حکم اور اس کے رسولوں علیہ م الصلوۃ والسلام کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے ان کے اعمال کا سخت حسا ب لیا اور انہیں برا عذاب دیا۔یہاں سخت حساب سے مراد آخرت کاحساب ہے اور چونکہ اس کا واقع ہونا یقینی ہے اس لئے یہاں ماضی کے صیغہ سے اسے بیان فرمایا گیا اور برے عذاب سے جہنم کا عذاب مراد ہے یا اس سے مراد دنیا میں قحط اور قتل وغیرہ بلاؤں میں مبتلا کرنا ہے۔( روح البیان الطلاق تحت الایۃ : ۸ ۱۰ / ۳۹ - ۴۰ مدارک الطلاق تحت الایۃ: ۸ ص۱۲۵۴ خازن الطلاق تحت الایۃ: ۸ ۴ / ۲۸۱-۲۸۲ ملتقطا) {فذاقت وبال امرها: تو انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا۔} یعنی ان شہر والوں نے(سخت حساب اور برے عذاب کے ذریعے) اپنے کفر اور سرکشی کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام خسارہ ہوا کہ وہ منافع سے محروم ہو گئے اور عذاب میں مبتلا ہوئے۔( روح البیان الطلاق تحت الایۃ: ۹ ۱۰ / ۴۰)