Surah At Tahrim Ayat 4 (66:4)
The Prohibition · Juz 28 · Madani
اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَاۚ-وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔(اے نبی کی دونوں بیویو!) اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو کیونکہ تمہارے دل ضرور کچھ ہٹ گئے ہیں (تو وہ توبہ قبول کرے گا) اور اگر نبی کے مقابلے میں تم ایک دوسرے کی مدد کرو تو بیشک اللہ خودان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مددگار ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanنبی کی دونوں بیبیو! اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں اور اگر ان پر زور باندھو تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ان تتوبا الى الله فقد صغت قلوبكما: اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو کیونکہ تمہارے دل ضرور کچھ ہٹ گئے ہیں ۔} اس ایت میں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہما کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ اے میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی دونوں بیویو! اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا تم پر واجب ہے کیونکہ تمہارے دل ضرور حق سے کچھ ہٹ گئے ہیں کہ تمہیں حضرت ماریہ رضی اللہ تعالی عنہا کو نبی علیہ السلام کے اپنے اوپر حرام کر لینے کی بات پسند آئی جو کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر بھاری ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مقابلے میں تم ایک دوسرے کی مدد کرو اور باہم مل کر ایسا طریقہ اختیار کرو جو سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ناگوار ہو تو سن لو! بیشک اللہ تعالی ان کا مددگار ہے حضرت جبریل علیہ السلام نیک ایمان والے اور ان کی مدد کے بعد فرشتے بھی مددگار ہیں ۔( خازن التحریم تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۲۸۵ مدارک التحریم تحت الایۃ: ۴ ص۱۲۵۷ ملتقطا) یہاں اس ایت سے متعلق تین باتیں بھی ملاحظہ ہوں (1)…اگرچہ حضرت جبریل بھی فرشتوں میں داخل ہیں مگر چونکہ وہ تمام فرشتوں کے سردار ہیں اس لئے خصوصیت سے ان کا علیحدہ ذکر ہوا۔ (2)… نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مسلمانوں کے ایسے مدد گار ہیں جیسے بادشاہ رعایا کا مددگار اور مومن حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ایسے مددگار جیسے خدام اور سپاہی بادشاہ کے لہذا اس ایت کی بناء پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مسلمانوں کے حاجت مند ہیں ۔ (3)…اس ایت میں حضرت جبریل علیہ السلام اور نیک مسلمانوں کو مولی یعنی مدد گار فرمایا گیا اور فرشتوں کو ظہیر یعنی معاون قرار دیا گیا اس سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی کے بندے مدد گار ہیں یاد رہے کہ جہاں غیر اللہ کی مدد کی نفی ہے وہاں حقیقی مدد مراد ہے لہذا ایات میں تعارض نہیں ۔