IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 68

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ (1)

نٓ، قلم اور اس کی قسم جو لکھتے ہیں۔

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ (2)

تم اپنے رب کے فضل سے ہر گز مجنون نہیں ہو۔

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ (3)

اور یقینا تمہارے لیے ضرور بے انتہا ثواب ہے۔

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(4)

اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ (5)

تو جلد ہی تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔

بِاَیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ(6)

کہ تم میں کون مجنون تھا۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ۪-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(7)

بیشک تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے اسے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ ہدایت والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ(8)

تو تم جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ(9)

انہوں نے تو یہی خواہش رکھی کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں۔

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ (10)

اور ہر ایسے آدمی کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا، ذلیل۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ (11)

سامنے سامنے بہت طعنے دینے والا، چغلی کے ساتھ ادھر ادھر بہت پھرنے والا۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ (12)

بھلائی سے بڑا روکنے والا، حد سے بڑھنے والا،بڑا گناہگار۔

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ (13)

سخت مزاج، اس کے بعد ناجائز پیداوار ہے۔

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَﭤ(14)

اس بنا پر (بات نہ مانو) کہ وہ مال اور بیٹوں والا ہے۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(15)

جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں ۔

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ(16)

قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے۔

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِۚ-اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ (17)

بیشک ہم نے انہیں جانچا جیسا باغ والوں کو جانچا تھا جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس باغ کو کاٹ لیں گے۔

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ(18)

اور اِنْ شَآءَ اللہ نہیں کہہ رہے تھے۔

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآىٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآىٕمُوْنَ(19)

تو اس باغ پر تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیری کر گیا جبکہ وہ سو رہے تھے۔

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ (20)

تو صبح کے وقت وہ باغ سیاہ رات کی طرح ہوگیا۔

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ (21)

پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا۔

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ(22)

کہ اگر تم کاٹنا چاہتے ہو تو صبح سویرے اپنی کھیتی پر چلو۔

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ (23)

تو وہ چلے اور آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے۔

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ (24)

کہ ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں آنے نہ پائے۔

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ(25)

اور وہ خود کو روکنے پر قادرسمجھتے ہوئے صبح سویرے چلے۔

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ (26)

پھر جب انہوں نے اس باغ کو دیکھا توکہنے لگے:بیشک ہم ضرور راستہ بھٹک گئے ہیں ۔

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ(27)

بلکہ ہم محروم ہوگئے ہیں۔

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ(28)

ان میں جو بہتر تھا اس نے کہا: کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(29)

انہوں نے کہا: ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم ظالم تھے۔

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ(30)

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتے متوجہ ہوئے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ(31)

بولے: ہائے ہماری خرابی، بیشک ہم سرکش تھے۔

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ(32)

امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدل دے یقینا(اب) ہم اپنے رب کی طرف ہی رغبت رکھنے والے ہیں ۔

كَذٰلِكَ الْعَذَابُؕ-وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ (33)

سزا ایسی ہی ہوتی ہے اور بیشک آخرت کی سزا سب سے بڑی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر لوگ جانتے۔

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(34)

بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیں ۔

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَﭤ(35)

توکیا ہم مسلمانوں کو مجرموں جیسا کردیں ۔

مَا لَكُمْٙ-كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ (36)

تمہیں کیا ہوا؟ کیسا حکم لگاتے ہو؟

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ (37)

کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے جس میں تم (ایسی بات)پڑھتے ہو۔

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ (38)

کہ تمہارے لیے قیامت کے دن میں ضروروہ سب کچھ ہے جو تم پسند کرو۔

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ-اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ (39)

یا تمہارے لیے ہم پر قیامت کے دن تک پہنچتی ہوئی کچھ قسمیں ہیں کہ ضرور تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم فیصلہ کرو گے۔

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ (40)

تم ان سے پوچھو کہ ان میں کون اس کا ضامن ہے؟

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُۚۛ-فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآىٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ(41)

یا ان کیلئے کچھ شریک ہیں تو وہ اپنے شریکوں کو لے آئیں اگر سچے ہیں ۔

یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ (42)

جس دن معاملہ بڑا سخت ہوجائے گا اور کافروں کوسجدے کی طرف بلایا جائے گا تو وہ (اس کی) طاقت نہ رکھیں گے۔

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ(43)

ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ،ان پر ذلت چڑھ رہی ہوگی اوربیشک انہیں (دنیا میں ) سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا جبکہ وہ تندرست تھے۔

فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِؕ-سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ (44)

تو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو عنقریب ہم انہیں آہستہ آہستہ وہاں سے لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْؕ-اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ(45)

اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔

اَمْ تَسْــٴَـلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ (46)

یا کیا تم ان سے اجرت مانگتے ہو کہ وہ تاوان کے بوجھ میں دبے ہوئے ہیں ۔

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ(47)

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں ۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌﭤ(48)

تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(49)

اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(50)

تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔

وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌﭥ(51)

اوربیشک کافر جب قرآن سنتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ گویا اپنی آنکھوں سے نظر لگا کر تمہیں ضرورگرادیں گے اور وہ کہتے ہیں :یہ ضرور عقل سے دور ہیں ۔

وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ (52)ٛ

حالانکہ وہ تو تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہی ہیں ۔