IQRA QURAN Logo

IQRA QURAN

Your Digital Companion

Surah 69

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

اَلْحَآقَّةُۙ (1)

یقینی طور پر واقع ہونے والی۔

مَا الْحَآقَّةُۚ (2)

یقینی طور پر واقع ہونے والی کیا ہے؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُﭤ(3)

اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ یقینی طور پر واقع ہونے والی کیا ہے؟

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ(4)

ثمود اور عاد نے دلوں کو دہلادینے والی کو جھٹلایا۔

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ(5)

تو قومِ ثمود کے لوگ تو حد سے گزری ہوئی چنگھاڑ سے ہلاک کئے گئے۔

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ (6)

اور عادکے لوگ تو وہ نہایت سخت گرجتی آندھی سے ہلاک کیے گئے ۔

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍۙ-حُسُوْمًاۙ-فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰىۙ-كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ (7)

اللہ نے وہ آندھی ان پرلگاتارسات راتیں اور آٹھ دن پوری قوت کے ساتھ مسلط کردی تو تم ان لوگوں کو ان دنوں اور راتوں میں یوں پچھاڑے ہوئے دیکھتے گویا کہ وہ گری ہوئی کھجوروں کے سوکھے تنے ہیں ۔

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ(8)

تو کیا تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو؟

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ (9)

اور فرعون اور اس سے پہلے والے اور الٹنے والی بستیوں نے خطاؤں کا ارتکاب کیا ۔

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً(10)

تو انہوں نے اپنے رب کے رسول کا حکم نہ مانا تو اللہ نے انہیں زیادہ سخت گرفت سے پکڑلیا۔

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ (11)

بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھاتوہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا۔

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ(12)

تاکہ اسے تمہارے لیے یادگار بنادیں اور سن کر یاد رکھنے والے کان اس واقعہ کو یاد رکھیں۔

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ (13)

پھرجب صور میں (پہلی مرتبہ) ایک پھونک ماری جائے گی۔

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً(14)

اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک دم چورا چوراکردئیے جائیں گے۔

فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ (15)

تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی۔

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَىٕذٍ وَّاهِیَةٌۙ (16)

اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن وہ بہت کمزورہوگا۔

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآىٕهَاؕ-وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَىٕذٍ ثَمٰنِیَةٌﭤ(17)

اور فرشتے اس کے کناروں پر (کھڑے) ہوں گے اور اس دن آٹھ فرشتے تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائیں گے۔

یَوْمَىٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ(18)

اس دن تم سب اس حال میں پیش کئے جاؤ گے کہ تم میں سے کسی کی کوئی پوشیدہ حالت چھپ نہ سکے گی۔

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ-فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ (19)

تو بہر حال جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: لو میرا نامۂ اعمال پڑھ لو۔

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ (20)

بیشک مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو ملنے والا ہوں ۔

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ (21)

تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ (22)

بلند باغ میں ۔

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ(23)

اس کے پھل قریب ہوں گے۔

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ(24)

(کہا جائے گا:) گزرے ہوئے دنوں میں جو تم نے آگے بھیجا اس کے بدلے میں خوشگواری کے ساتھ کھاؤ اور پیو۔

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ﳔ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ (25)

اوررہا وہ جسے اس کانامہ اعمال ا س کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ (26)

اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ (27)

اے کاش کہ دنیا کی موت ہی (میرا کام) تمام کردینے والی ہوجاتی۔

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ (28)

میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ (29)

میرا سب زور جاتا رہا۔

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ (30)

(فرشتوں کو حکم ہوگا) اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو۔

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ (31)

پھر اسے بھڑکتی آگ میں داخل کرو۔

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُﭤ(32)

پھر ایسی زنجیر میں جکڑ دو جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے۔

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ (33)

بیشک وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہ لاتا تھا۔

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِﭤ(34)

اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتا تھا۔

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ (35)

تو آج یہاں اس کا کوئی دوست نہیں ۔

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ (36)

اور نہ دوزخیوں کے پیپ کے سوا کچھ کھانے کو ہے۔

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـــٴُـوْنَ۠ (37)

اسے خطاکار لوگ ہی کھائیں گے۔

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ (38)

تو مجھے ان چیزوں کی قسم ہے جنہیں تم دیکھتے ہو۔

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ (39)

اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے۔

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍﳐ(40)

بیشک یہ قرآن ضرور ایک معزز رسول سے باتیں ہیں ۔

وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ (41)

اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں ہے۔تم بہت کم یقین رکھتے ہو۔

وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَﭤ(42)

اور نہ کسی کاہن کی بات ہے ۔ تم بہت کم نصیحت مانتے ہو۔

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(43)

یہ قرآن سارے جہانوں کے رب کی طرف سے اتارا ہواہے۔

وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ (44)

اور اگر وہ ایک بات بھی خود بنا کر ہمارے اوپر لگا دیتے ۔

لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ (45)

توضرور ہم ان سے قوت کے ساتھ بدلہ لیتے۔

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ ۖ (46)

پھر ان کی دل کی رگ کاٹ دیتے۔

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ(47)

پھر تم میں کوئی ان سے روکنے والا نہ ہوتا۔

وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ(48)

اور بیشک یہ قرآن ڈر والوں کے لئے ضرور نصیحت ہے۔

وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ(49)

اوربیشک ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ جھٹلانے والے ہیں ۔

وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ(50)

اور بیشک وہ کافروں پر ضرور حسرت ہے۔

وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ(51)

اور بیشک وہ ضروریقینی حق ہے۔

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ (52)

تو (اے محبوب!)تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔