Surah Al Araf Ayat 1 (7:1)
The Heights · Juz 8 · Makki
الٓـمّٓصٓ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariالمص۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے محبوب ۔
Tafseer (Urdu)
{ الـمص:} یہ حروف مقطعات ہیں ان کی مراد اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔ { كتب انزل الیك:اے محبوب! ایک کتاب تمہاری طرف اتاری گئی۔}یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ کتاب یعنی قران پاک اپ کی طرف اس لئے نازل کیا گیا تاکہ اپ اس کے ذریعے لوگوں کواللہ عزوجل کے عذاب سے ڈرائیں۔ پس اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دل میں لوگوں کے سابقہ طرز عمل کی وجہ سے اور اس خیال سے کہ لوگ نہ مانیں گے اور اس پر اعتراض کریں گے اور اسے جھٹلانے لگیں گے اس کی تبلیغ فرمانے سے کوئی تنگی نہ ائے اپ ان کفار کی مخالفت کی ذرہ بھر پروا نہ کریں۔ تکالیف کی وجہ سے تبلیغ دین میں دل تنگ نہیں ہونا چاہیے: اس ایت میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تسکین و تسلی اور حوصلہ افزائی ہے اور اس کے ذریعے امت کے تمام مبلغین کو درس اور سبق ہے کہ لوگوں کے نہ ماننے یا تکلیفیں دینے کی وجہ سے تبلیغ دین میں دل تنگ نہیں ہونا چاہیے۔ نیکی کی دعوت کا کام ہی ایسا ہے کہ اس میں تکالیف ضرور اتی ہیں۔ اسی لئے تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے بے پناہ تکلیفیں اٹھائیں اور ان کے واقعات قران پاک میں بکثرت موجود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا اگ میں ڈالا جانا اپنے ملک سے ہجرت کرنا لوگوں کا اپ کو تنگ کرنا یونہی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا ہجرت کرنا فرعون کا اپ کے مقابلے میں انا اپ کو جادوگر قرار دینا اپ کو گرفتار کرنے کے منصوبے بنانا یونہی سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا بے پناہ تکلیفیں اٹھانا راستے میں کانٹے بچھانا اپ کو شہید کرنے کے منصوبے بنانا اپ کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کرنا اپ کو جادوگر کاہن شاعر کہنا اپ سے جنگ کرنا وغیرہ یہ ساری چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ راہ تبلیغ میں تکالیف انا ایک معمول کی چیز ہے اور انہیں برداشت کرنا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔ ایت میں فرمایا گیا کہ یہ قران مومنوں کیلئے نصیحت ہے اب یہاں اج کے مومنین و مسلمین سے بھی عرض ہے کہ ذرا اپنے احوال و اعمال پر غور کریں کہ کیا یہ قران سے نصیحت حاصل کررہے ہیں یا انہیں قران کھولنے پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی